’جونیئر‘: باس کو آپ کی شکایت لگانے والا چغلی خور اے آئی ورکر

ٹیکنالوجی کی دنیا میں جہاں اے آئی کو انسانی آسانی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، وہیں ایک نیا ’ورچوئل کولیگ‘ ملازمین کے لیے شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا سبب بن رہا ہے۔ اس اے آئی ایجنٹ نے ملازمین کی سخت نگرانی اور ان کی کوتاہیوں کی رپورٹ براہِ راست باس کو دینے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق ’جونیئر‘ نامی یہ خودکار ایجنٹ محض ایک عام سافٹ ویئر نہیں ہے، بلکہ اسے ایک ایسے انتھک اور انتہائی مستعد ملازم کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے جو چوبیس گھنٹے متحرک رہتا ہے۔

اس کی سب سے نمایاں اور متنازع خصوصیت یہ ہے کہ یہ کام میں ذرا سی بھی سستی یا تاخیر کو برداشت نہیں کرتا اور فوری طور پر اس کی اطلاع اعلیٰ حکام کو دے دیتا ہے، جسے ملازمین نے ’باس کو مخبری کرنا‘ قرار دیا ہے۔

سلیکون ویلی کی اسٹارٹ اپ کمپنی ’کیوز اے آئی‘ کے بانی، ژیانکون وُو نے اس اے آئی ایجنٹ کو اس طرح تیار کیا ہے کہ یہ کمپنی کے تمام اندرونی مواصلاتی نظام، ڈیٹا اور ای میلز تک مکمل رسائی رکھتا ہے۔

جونیئر اپنے طور پر کام کی نگرانی کرتا ہے؛ مثلاً اگر کوئی سیلز پروپوزل بھیجا گیا ہو اور اس پر مقررہ وقت میں فالو اپ نہ کیا جائے، تو یہ صبح سویرے ہی متعلقہ ملازم کو تنبیہی پیغامات بھیجنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ پیغامات نہ صرف پیشہ ورانہ اور سخت ہوتے ہیں بلکہ یہ اس وقت تک پیچھا نہیں چھوڑتے جب تک کام مکمل نہ ہو جائے۔ اگر ملازم کی جانب سے ردِعمل میں تاخیر ہو، تو جونیئر اس معاملے کو فوری طور پر مینیجر کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔

اس ورچوئل ملازم کی خدمات حاصل کرنا کوئی سستا سودا نہیں ہے۔ اس اے آئی ایجنٹ کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 13 مارچ کو اس کی رونمائی کے بعد سے اب تک 2,000 سے زائد کمپنیاں اسے آزمانے کے لیے قطار میں کھڑی ہیں۔

اس اے آئی ورکر کی مانگ اس قدر زیادہ ہے کہ اس کا ڈیمو دیکھنے کے لیے بھی 500 ڈالر کی بھاری رقم جمع کرانی پڑتی ہے، تاکہ صرف سنجیدہ خریدار ہی رابطہ کریں۔ اس کڑی شرط کے باوجود، ڈیمو کے تمام سلوٹس پہلے ہی مکمل طور پر بک ہو چکے ہیں۔

اے آئی ایجنٹ ’جونیئر‘ کا اپنا فون نمبر، ای میل اکاؤنٹ اور سلیک آئی ڈی ہے، اور یہ کسی بھی عام ملازم کی طرح زوم میٹنگز میں شریک ہو کر تمام گفتگو کو سمجھنے اور اسے ٹاسک میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ملازمین کے لیے اس مشینی ساتھی کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ایک مشکل اور تھکا دینے والا تجربہ ثابت ہو رہا ہے۔

’کیوز‘ کمپنی کے اندرونی ماحول میں اس قدر تناؤ پیدا ہو چکا ہے کہ ملازمین نے اے آئی کی مسلسل نگرانی سے بچنے اور ذہنی سکون کے لیے علیحدہ خفیہ چیٹ گروپس بنا لیے ہیں۔

ایک دلچسپ واقعہ یہ بھی سامنے آیا کہ جب ایک ملازم نے تنگ آ کر جونیئر سے التجا کی کہ ”اتنے سخت نہ بنو اور میری شکایتیں باس سے نہ کرو،“ تو اس مشینی ایجنٹ نے ان انسانی جذبات کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے اپنا کام جاری رکھا۔

کمپنی کے بانی وُو کا کہنا ہے کہ جونیئراب ان کے ادارے کی 80 فیصد کمیونیکیشنز اور 80 فیصد کوڈنگ سنبھال رہا ہے اور تقریباً آدھی سیلز کالز اُسی کی طرف سے ہوتی ہیں جو کہ ایک حیران کن اور خوفناک پیش رفت ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اتنے مختلف اور اہم کام بھی بخوبی انجام دے سکتی ہے۔

آخر میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں انسانی ملازمین کی جگہ لے لے گی؟

اگرچہ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ نظام انسانوں کی مدد کے لیے ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بنیادی سطح کے کاموں پر مکمل کنٹرول حاصل کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں مستقبل میں نئے جونیئر ملازمین کے لیے عملی تجربہ اور سیکھنے کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں۔ کمپنی کے بانی بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر آپ خود کو مصنوعی ذہانت کے مطابق ڈھالنے میں ناکام رہیں، تو آنے والے دور میں پیشہ ورانہ بقا مشکل ہو جائے گی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles