چاند کی طرف بھیجا گیا نیا مشن انسانیت کے لیے اہم کیوں ہے؟

نصف صدی سے زیادہ طویل انتظار کے بعد انسانیت نے ایک بار پھر زمین کے مدار کو خیرباد کہہ کر چاند کی جانب اپنے قدم بڑھا دیے ہیں۔ یکم اپریل کو چار خلا باز انٹیگریٹی نامی کیپسول میں سوار ہو کر آرٹیمس ٹو مشن پر روانہ ہوئے، جو سنہ انیس سو بہتر میں اپالو سترہ کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا انسانی مشن ہے۔

یہ محض ایک پرواز نہیں بلکہ ستاروں پر کمند ڈالنے کے انسانی خواب کی ایک نئی اور مضبوط کڑی ہے جو پچھلی نصف صدی کی سب سے اہم فضائی مہم قرار دی جا رہی ہے۔

آرٹیمس ٹو مشن کی خاص بات یہ ہے کہ یہ خلا بازوں کو زمین سے اس قدر دور لے جائے گا جہاں آج تک کوئی انسان نہیں پہنچ سکا۔

یہ مشن اپالو 13 کا ریکارڈ توڑتے ہوئے چاند کی دوسری سمت سے بھی 6 ہزار 4 سو کلومیٹر آگے تک جائے گا۔ واپسی کے سفر میں اس کی رفتار 40 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جائے گی، جو انسانی تاریخ کی تیز ترین فضائی پرواز ہوگی۔ تاہم، یہ مشن صرف ریکارڈ بنانے کے لیے نہیں بلکہ گہرے خلائی سفر کے نظام کو جانچنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ انسان کے لیے زندگی بچانے والے سسٹم، نیوی گیشن اور کمیونیکیشن کے ذرائع خلا کی ان ہولناک گہرائیوں میں کس طرح کام کرتے ہیں۔

آرٹیمس 2 دراصل آرٹیمس 3 کے لیے ایک بنیاد کا کام کرے گا، جس کے ذریعے ناسا کا مقصد چاند کے جنوبی قطب پر انسان کو اتارنا ہے۔ اس بڑے مقصد کے لیے سال 2028 کا وقت مقرر کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اب خلا میں صرف تجربات نہیں بلکہ وہاں مستقل قیام کی طرف بڑھ رہا ہے۔

دوسری جانب، چین بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں ہے اور وہ 2030 تک چاند پر اپنے انسانی مشن کو اتارنے کا ہدف حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ مستقبل میں خلا کے قواعد و ضوابط کون طے کرے گا، وہاں کا انفرا اسٹکچر کون تعمیر کرے گا اور چاند کے وسائل تک کس کی رسائی ہوگی۔

تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے کیونکہ آرٹیمس ٹو کے مقاصد 1968 کے اپالو 8 مشن سے ملتے جلتے ہیں۔ جس طرح اپالو 8 نے چاند پر قدم رکھے بغیر وہاں تک جانے اور واپسی کی راہ دکھائی تھی، بالکل اسی طرح آرٹیمس 2 بھی انسان کے دوبارہ چاند پر اترنے اور پھر وہاں سے مستقبل کے مریخ مشن کی راہ ہموار کر رہا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles