
دنیا کے تقریباً تیس سے زائد ممالک جمعرات کے روز ایک اہم ورچوئل اجلاس میں شرکت کریں گے، جس کا مقصد ایران کے خلاف جاری امریکی-اسرائیلی جنگ کے باعث بند ہونے والی اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے سفارتی اور سیاسی دباؤ بڑھانا ہے۔
امریکی خبر ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ یہ اجلاس برطانیہ کی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر کی سربراہی میں منعقد ہوگا، جس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کس طرح مؤثر سفارتی اور سیاسی اقدامات کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی بحال کی جا سکتی ہے، پھنسے ہوئے جہازوں اور ملاحوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے، اور ضروری اشیاء کی ترسیل کو دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔
ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں پر حملوں کے خدشات کے باعث خلیج فارس کو دنیا کے دیگر سمندروں سے ملانے والی اس اہم آبی گزرگاہ میں تقریباً تمام بحری ٹریفک معطل ہو چکی ہے۔
اس صورتحال نے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے ایک نہایت اہم راستے کو بند کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ امریکا اس اجلاس میں شریک نہیں ہوگا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی یہ واضح کر چکے ہیں کہ اس آبی گزرگاہ کی سیکیورٹی امریکا کی ذمہ داری نہیں، اور انہوں نے اتحادی ممالک کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی توانائی ضروریات خود پوری کریں۔
موجودہ کشیدہ صورتحال میں کوئی بھی ملک طاقت کے ذریعے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے تیار نظر نہیں آتا، کیونکہ ایران کے پاس جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے اینٹی شپ میزائل، ڈرونز، حملہ آور کشتیاں اور بارودی سرنگوں جیسے وسائل موجود ہیں۔
تاہم کیئر اسٹارمر نے عندیہ دیا ہے کہ مختلف ممالک کے فوجی ماہرین جلد ایک علیحدہ اجلاس میں شرکت کریں گے، جس میں جنگ کے خاتمے کے بعد بحری سلامتی کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر غور کیا جائے گا۔
ادھر برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، کینیڈا، جاپان اور متحدہ عرب امارات سمیت 35 ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے ہیں، جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوششیں فوری طور پر بند کرے، اور اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ اس اہم گزرگاہ میں محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات میں حصہ ڈالیں گے۔
کیئر اسٹارمر نے خبردار کیا ہے کہ بحری آمد و رفت کی بحالی آسان نہیں ہوگی، اور اس کے لیے فوجی طاقت، سفارتی سرگرمیوں اور بحری صنعت کے ساتھ قریبی تعاون پر مبنی ایک متحدہ حکمت عملی درکار ہوگی۔