
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی گمشدگی سے متعلق قیاس آرائیاں شدت اختیار کر گئی ہیں، تاہم روسی سفارتکار نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ملک میں ہی موجود ہیں لیکن سیکیورٹی خدشات کے باعث عوامی سطح پر سامنے نہیں آرہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے روسی میڈیا آؤٹ لیٹ آر ٹی وی آئی کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ماسکو کے ایران میں سفیر نے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے اندر ہی موجود ہیں، تاہم وہ ’’قابلِ فہم وجوہات‘‘ کی بنا پر عوامی سطح پر ظاہر نہیں ہو رہے ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی موجودگی اور حالت کے حوالے سے عالمی سطح پر قیاس آرائیاں جاری ہیں، کیونکہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ کو ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور اس دوران وہ ایک بار بھی عوام کے سامنے نہیں آئے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کی صحت اور حیثیت کے حوالے سے مختلف اور متضاد اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے 28 فروری کو امریکی، اسرائیلی حملے میں اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ اس کے بعد سے وہ مسلسل منظر عام سے غائب ہیں۔
ان کی جانب سے جاری کیے جانے والے تمام بیانات، جن میں 12 مارچ کا پہلا خطاب اور 20 مارچ کو نوروز کا پیغام شامل ہے، تحریری صورت میں جاری کیے گئے جنہیں سرکاری ٹی وی کے اینکرز نے پڑھ کر سنایا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے نئے رہنما ’’ہلاک یا شدید زخمی‘‘ بھی ہو سکتے ہیں، جس کے بعد ان کی حالت سے متعلق شکوک و شبہات مزید بڑھ گئے ہیں۔