نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے محققین نے ایک ایسی ویئرنگ ڈیوائس تیار کی ہے جو انسانی جلد کے ذریعے ہونے والے سانس لینے کے عمل یعنی گیسوں کے تبادلے کی پیمائش کر سکتی ہے۔ یہ چھوٹی سی ڈیوائس انسانی صحت کی نگرانی کے روایتی طریقوں میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
سائنسی نقطہ نظر سے یہ ایجاد اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ یہ خون کے نمونے لیے بغیر، جسم کے اندرونی نظام کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی جلد سے خارج ہونے والی آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح کو مانیٹر کر کے طبی تشخیص کے عمل کو جدید اور آسان بناتی ہے۔
جریدے نیچرمیں شائع ہونے والی اس حالیہ تحقیق میں اس ڈیوائس کے تکنیکی پہلوؤں اور کام کرنے کے طریقہ کار کی مزید تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔
نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی اس ریسرچ کا مرکزی نقطہ ایک ایسی ”پہننے کے قابل کیمیکل سینسنگ پلیٹ فارم“ کی تیاری ہے جو انسانی جلد سے خارج ہونے والی گیسوں، خصوصاً آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مسلسل اور درست پیمائش کر سکتی ہے۔ روایتی طور پر ان گیسوں کی پیمائش کے لیے خون کے نمونے یا بھاری بھرکم مشینوں کی ضرورت ہوتی تھی، لیکن یہ سینسر ایک باریک فلم کی طرح جلد پر چپک کر یہ کام انجام دیتا ہے۔
اس آلے کی سب سے بڑی سائنسی کامیابی اس کا ”مائیکرو فلوئڈک ڈیزائن“ ہے، جو پسینے یا نمی کی موجودگی میں بھی گیسوں کے تبادلے کو درست طریقے سے ناپنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ سینسر جلد کے ذریعے ہونے والے گیسوں کے اخراج کو برقی سگنلز میں تبدیل کرتا ہے، جس سے ڈاکٹروں کو مریض کے خون کے بہاؤ اور میٹابولک صحت کا فوری اندازہ ہو جاتا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کی سب سے اہم طبی افادیت قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں اور جلد کے امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے ہے۔ نومولود بچوں کی نازک جلد سے خون نکالنا ایک تکلیف دہ عمل ہوتا ہے، مگر یہ ڈیوائس بغیر کسی سوئی کے مسلسل نگرانی فراہم کر سکتی ہے۔
اس کے علاوہ، یہ آلہ ’بلڈ سرکولیشن‘ اور ’ٹشوز ہیلتھ‘ کے بارے میں بھی بروقت آگاہی دیتا ہے، جو سرجری کے بعد مریضوں کی بحالی کے عمل میں انتہائی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
مستقبل کے حوالے سے یہ پیش رفت اس بات کی نوید ہے کہ اب صحت کا انتظام صرف ہسپتالوں تک محدود نہیں رہے گا۔ یہ پہننے کے قابل سینسر ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ ہمارا طرزِ زندگی، تناؤ اور ماحول ہماری جلد کے افعال پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں۔
یہ محض ایک سائنسی کامیابی نہیں ہے بلکہ انسانی جسم کی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور اسے جدید ڈیجیٹل دور کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ایک بہترین مثال ہے، جہاں ٹیکنالوجی خاموشی سے ہماری زندگیوں کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔