پاکستان کے ذریعے ایران سے مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے، جلد ڈیل متوقع ہے: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جلد ڈیل کا امکان ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے۔

امریکی صدر نے اتوار کو صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ امریکا ایران کے تیل کے وسائل پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے اور خلیج میں واقع اہم جزیرے ’خارگ‘ پر قبضہ بھی ممکنہ طور پر امریکی حکمت عملی کا حصہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے پاکستانی پرچم بردار 20 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے اس اجازت میں کردار ادا کیا۔

ٹرمپ نے مزید بتایا کہ امریکی اسپیشل آپریشن فورسز کی بڑی تعداد مشرق وسطیٰ پہنچ چکی ہے اور ایران کے حوالے سے ایک ممکنہ فوجی کارروائی پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایسی کسی کارروائی میں امریکی افواج کو نقصان پہنچنے کا خدشہ موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی فورسز ایران میں ہزاروں ممکنہ اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور اس حوالے سے منصوبہ بندی جاری ہے۔

گفتگو کے دوران انہوں نے کیوبا سے متعلق بھی کہا کہ وہاں کی صورتحال جلد بدل سکتی ہے اور امریکا مدد کے لیے تیار ہوگا۔

دوسری جانب اسلام آباد اس وقت اہم سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں مصر، ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے اتوار کو پاکستان کا دورہ کیا۔

ان رہنماؤں نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا۔

اس موقع پر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ انہوں نے شریک وزرائے خارجہ کو ایران اور امریکا کے درمیان جاری پس پردہ مذاکرات کے بارے میں آگاہ کیا اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی امن کا واحد راستہ ہیں اور تمام ممالک کو ایک دوسرے کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان مسلسل علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور امریکی قیادت کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے۔

ان کے مطابق ایران اور امریکا دونوں نے پاکستان کے کردار پر اعتماد کا اظہار کیا ہے جبکہ چین نے بھی مذاکراتی عمل کی حمایت کی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles