ٹرمپ پالیسیوں کے خلاف امریکا بھر میں ’نو کنگز‘ احتجاج، لاکھوں افراد سڑکوں پر

امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں، ملک کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں ’نو کنگز‘ کے عنوان سے ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ یہ احتجاجی سلسلہ تیسری بار سامنے آیا ہے اور منتظمین کے مطابق اس سے پہلے ہونے والی ریلیوں میں بھی لاکھوں افراد شریک ہو چکے ہیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کی مختلف پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں جن میں ایران کے ساتھ جاری جنگ، امیگریشن کے سخت قوانین اور مہنگائی میں اضافہ شامل ہیں۔

احتجاج کے منتظمین نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ٹرمپ ہمیں ایک بادشاہ کی طرح کنٹرول کرنا چاہتے ہیں، لیکن یہ امریکا ہے جہاں طاقت عوام کے پاس ہے، کسی خود ساختہ بادشاہ یا ارب پتی طبقے کے پاس نہیں۔‘

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ان مظاہروں کو سنجیدہ لینے کے بجائے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے انہیں ”ٹرمپ ڈیرینجمنٹ تھراپی سیشنز“ قرار دیا اور کہا کہ ان میں صرف وہی لوگ دلچسپی رکھتے ہیں جو میڈیا میں کوریج کے لیے موجود ہیں۔

ہفتے کے روز نیویارک، واشنگٹن ڈی سی، لاس اینجلس سمیت تقریباً ہر بڑے شہر میں مظاہرے دیکھنے میں آئے۔

واشنگٹن ڈی سی میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، لنکن میموریل کی سیڑھیوں پر جمع ہوئے اور نیشنل مال تک ریلیاں نکالیں۔

مظاہرین نے ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر حکومتی عہدیداروں کے پتلے اٹھا رکھے تھے اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

مینیسوٹا میں ہونے والی ایک بڑی ریلی خاص توجہ کا مرکز بنی جہاں رواں سال جنوری میں وفاقی امیگریشن اہلکاروں کے ہاتھوں دو امریکی شہریوں کی ہلاکت کے بعد غم و غصہ پہلے ہی موجود تھا۔

اس ریلی میں ہزاروں افراد شریک ہوئے جبکہ متعدد اہم ڈیموکریٹ رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

معروف گلوکار بروس اسپرنگسٹین نے بھی اس موقع پر اپنا احتجاجی گانا ’اسٹریٹس آف منیاپولس‘ پیش کیا۔

نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں بھی ہزاروں افراد نے مارچ کیا جس کے باعث پولیس کو کئی سڑکیں بند کرنا پڑیں۔ ماضی میں بھی ایسے مظاہروں میں شہر بھر سے ایک لاکھ سے زائد افراد کی شرکت ریکارڈ کی جا چکی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس بار ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں مجموعی طور پر تقریباً ستر لاکھ افراد شریک ہوئے۔

امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے مینیسوٹا میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ویتنام اور عراق جنگ کے حوالے سے امریکی عوام سے جھوٹ بولا گیا اور اب ایران کے معاملے پر بھی حقائق چھپائے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ فوری طور پر روکی جائے کیونکہ یہ غیر آئینی اور عالمی قوانین کے خلاف ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ٹرمپ نے اس جنگ میں وسائل ضائع کیے اور ان کی عسکری پالیسی امریکا سمیت دنیا بھر میں قابل قبول نہیں۔

کانگریس رکن الہان عمر نے بھی اپنے خطاب میں ایران جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین نے بھی اسی مؤقف کو دہراتے ہوئے جنگ بندی اور پالیسیوں میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔

رپورٹس کے مطابق ایران جنگ کے دوران 13 امریکی فوجی ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جس نے عوامی غصے میں مزید اضافہ کیا ہے۔

ادھر ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ملک کو درپیش بحران سے نکالنے کے لیے ضروری ہیں۔

صدر ٹرمپ نے خود کو ’بادشاہ‘ کہلوانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف ملک کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے کئی فیصلے آئین کے منافی ہیں اور امریکی جمہوریت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

یہ مظاہرے صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہے بلکہ چھوٹے قصبوں میں بھی لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔

یہاں تک کہ بیرون ملک مقیم امریکی شہریوں نے بھی پیرس، لندن اور لزبن جیسے شہروں میں مظاہرے کیے جہاں ٹرمپ کے خلاف سخت نعرے بازی کی گئی اور ان کے مواخذے کا مطالبہ کیا گیا۔

یہ احتجاج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا میں داخلی سیاسی تقسیم گہری ہو چکی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر عوامی ردعمل مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles