ایران کی حمایت کرنے والوں کا بحرین میں حکومت مخالف شدید احتجاج، کئی مظاہرین گرفتار

بحرین میں ایران کی حمایت کرنے والے کارکن محمد الموسوی کی دورانِ حراست مبینہ تشدد سے ہلاکت کی خبر سامنے آنے کے بعد ریاست کے حکمران شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ کے خلاف احتجاج میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔

کے مطابق، محمد الموسوی کو چند روز قبل ایک چیک پوسٹ سے گرفتار کیا گیا تھا اور 27 مارچ کو ان کی میت اہلِ خانہ کے حوالے کی گئی، جس کے بعد پورے ملک میں پولیس کی سختیوں اور سیاسی مخالفین کو دبانے کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے۔

بحرین کے مختلف شہروں سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتعل مظاہرین رکاوٹیں جلا رہے ہیں اور شاہی خاندان کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔

پرو ایران مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جگہ جگہ جھڑپیں ہو رہی ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق، مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ بحرین کو ایران کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور ملک سے امریکی افواج اور پانچویں بیڑے کو فوری طور پر نکالا جائے۔

یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ جاری ہے۔

بحرین میں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا مقیم ہے جسے ایران کی جانب سے حملوں کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے ملک کے اندرونی حالات بھی خراب ہو رہے ہیں۔

مظاہرین کا الزام ہے کہ بحرینی حکومت کو امریکا اور سعودی عرب کی پشت پناہی حاصل ہے جو عوامی آواز کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ کئی لوگوں کو محض ایران کے ساتھ ہمدردی ظاہر کرنے یا احتجاجی ویڈیوز شیئر کرنے پر غداری اور جاسوسی جیسے سنگین الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب بحرینی حکومت کے ترجمان نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہے اور کسی کو بھی مذہبی بنیادوں پر نشانہ نہیں بنایا جا رہا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے انہیں قانون کے مطابق دفاع کا پورا حق دیا جائے گا۔

تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ گرفتار افراد کو وکلاء تک رسائی نہیں دی جا رہی اور محمد الموسوی کی دورانِ حراست ہلاکت کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles