
اسرائیل میں وزیر اعظم نیتن یاہو اور موساد ڈائریکٹر بارنیا کے درمیان ایران کے خلاف جنگ کی حکمت عملی پر اختلافات بڑھ گئے ہیں۔ ایران میں عوامی بغاوت کی ناکامی ہے، جو موساد کے منصوبے کے مطابق حکومت کمزور نہیں کر سکی۔ یہ داخلی کشیدگی اسرائیل میں فیصلوں پر اثر ڈال رہی ہے اور ایران میں حکومت کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے۔
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نیوز کے مطابق اسرائیل میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور موساد ڈائریکٹر ڈیوڈ بارنیا کے درمیان ایران کے خلاف جنگ کی حکمت عملی پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ حالیہ رپورٹوں کے مطابق بارنیا نے کم از کم گزشتہ ہفتے کے دوران نیتن یاہو کے ساتھ کسی مشترکہ اجلاس میں شرکت نہیں کی۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب نیتن یاہو نے موساد چیف پر الزام لگایا کہ انہوں نے ایران کی فوجی صلاحیتوں اور سیاسی و سماجی صورت حال کے بارے میں غلط معلومات فراہم کیں، جس کے باعث اسرائیل نے ایک غیر یقینی نتائج والی جنگ شروع کی۔ نیتن یاہو کے مطابق ممکنہ ناکامی اسرائیل کے وجود کے لیے سنگین خطرہ ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب موساد کا مؤقف ہے کہ انہوں نے وزیراعظم کو درست معلومات فراہم کیں، مگر نیتن یاہو نے اپنی ذاتی مہم جوئی کی بنیاد پر جنگ شروع کی اور ناکامی کی صورت میں ذمہ داری براہ راست وزیراعظم پر ہوگی نہ کہ موساد پر۔
ایرانی میڈیا کے مطابق کچھ ہیبرو ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں کے درمیان یہ بھی الزام تراشی ہوئی کہ ایرانی جاسوس اور حساس فوجی اور سیکیورٹی مراکز کی معلومات لیک ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں رہا۔
اس سے قبل ستمبر 2025 میں اسرائیل کے دوحہ پر حملے کے دوران بھی نیتن یاہو اور موساد ایک دوسرے پر حملے کی معلومات قبل از وقت افشا کرنے کا الزام لگا چکے ہیں، جس سے آپریشن کی کامیابی متاثر ہوئی تھی۔
تسنیم نیوز کے مطابق موساد نے دعویٰ کیا ہے کہ بارنیا نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے سے پہلے وزیراعظم کو خبردار کیا تھا کہ جنوبی خلیج میں موساد کے خفیہ نیٹ ورکس ایرانی حملے کے خطرے میں ہیں اور انہیں محفوظ کرنے کے اقدامات (مثلاً ہوٹل یا فوجی اڈوں میں منتقلی) ضروری ہوں گے، جس سے یہ نیٹ ورکس ظاہر اور ممکنہ طور پر تباہ ہو سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق نیتن یاہو نے ایران جنگ کے آغاز پر موساد کے ایک منصوبے کو اپنایا تھا جس کا مقصد عوامی بغاوت کے ذریعے ایرانی حکومت کو کمزور کرنا تھا۔ تاہم توقع کے برخلاف عوامی بغاوت نہیں ہوئی اور ایرانی قیادت نے مضبوطی دکھائی۔ امریکی اور اسرائیلی اہلکار بھی حکومت کی تبدیلی کے امکانات پر زیادہ پرامید نہیں ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق جنوری میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ایران حکومت کے خوں ریز کریک ڈاؤن نے شہریوں کو احتجاج کرنے سے خوف زدہ کر دیا تھا، جب کہ امریکی بمباری نے بھی عوامی مزاحمت کے امکانات کو محدود کیا۔
نیتن یاہو نے پسِ پردہ یہ شکایت کی کہ موساد کے وعدے کے مطابق ایران میں عوامی بغاوت ظاہر نہیں ہوئی اور انھوں نے بعض سیکیورٹی اجلاسوں میں منصوبے کے ناکام ہونے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
امریکی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ایرانی عوام جان کے خطرے کی وجہ سے احتجاج سے گریزاں ہیں اور بڑی اکثریت گھروں میں رہی۔ اس کے باوجود اسرائیلی حکام امید رکھتے ہیں کہ مستقبل میں ایرانی عوام خود اپنا کنٹرول سنبھالیں گے اور حکومت کی طاقت کم ہونے پر عوامی احتجاج ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے۔
تاہم ایرانی حکام کے مطابق عوام اور حکومت کی حمایت مضبوط ہے اور امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود عوام کی اکثریت نے حکومت کی پوزیشن کو برقرار رکھا ہے، جس سے جنگ کے آغاز میں موساد کی توقعات پر سوالیہ نشان لگ گیا۔