
ایران نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام ہوٹلز جہاں امریکی فوجیوں نے قیام کیا یا آئندہ کریں گے، انہیں جنگی اہداف تصور کیا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر چکی ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابوالفضل شکارچی نے سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تمام امریکی فوجی کسی ہوٹل میں منتقل ہو جاتے ہیں تو ہمارے نقطہ نظر سے وہ ہوٹل امریکی تنصیب بن جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کیا ہم صرف خاموش بیٹھے رہیں اور امریکی ہمیں نشانہ بناتے رہیں؟ جب ہم جواب دیتے ہیں تو جہاں بھی وہ موجود ہوں، ہمیں حملہ کرنا ہوگا۔
جمعرات کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الزام عائد کیا تھا کہ خلیجی تعاون کونسل کے ممالک میں امریکی فوجی مقامی آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس جنگ کے آغاز سے ہی امریکی فوجی جی سی سی کے فوجی اڈوں سے نکل کر ہوٹلوں اور دفاتر میں چھپ گئے ہیں۔
انہوں نے خطے کے ہوٹلوں سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی فوجیوں کو کمرے فراہم نہ کریں۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھی ایک بیان میں خطے کے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان علاقوں سے فوری طور پر نکل جائیں جہاں امریکی فوج تعینات ہے۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق آئی آر جی سی کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا تھا کہ ہم آپ کو سختی سے مشورہ دیتے ہیں کہ جہاں امریکی افواج موجود ہیں وہاں سے فوری نکل جائیں تاکہ آپ نقصان سے محفوظ رہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران پر لازم ہے کہ وہ امریکی افواج کو جہاں کہیں بھی پائے نشانہ بنائے۔
ایک اور بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ وہ ان تمام بندرگاہوں تک یا وہاں سے آنے جانے والی شپنگ پر پابندی عائد کرتا ہے جو امریکا اور اسرائیل کے اتحادی یا حمایتی ممالک کی ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ ہرمز کا تنگ راستہ مکمل طور پر بند ہے اور اس سے گزرنے والے جہازوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تین کنٹینر جہازوں کو آج ہرمز میں داخل ہونے سے روک دیا گیا، جو آئی آر جی سی کی بحریہ کی وارننگ کے بعد واپس روانہ ہوگئے۔