
امریکا اور اسرائیل نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے نام عارضی طور پر اپنی ہٹ لسٹ سے نکال دیے ہیں۔
امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جنرل‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان امن مذاکرات کو ایک موقع دینے کے لیے کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان دونوں رہنماؤں کو صرف چار سے پانچ دنوں کے لیے اس فہرست سے باہر رکھا گیا ہے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سفارتی بات چیت کی پیشکش کو پرکھا جا سکے۔
اگرچہ حکام کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے موقف میں بڑے فرق کی وجہ سے ان مذاکرات کی کامیابی کے امکانات کافی کم ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان انتہائی مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے۔
اسی امید پر امریکا نے ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر حملے کو فی الحال روک دیا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ اگلے پانچ دنوں میں کیا پیش رفت ہوتی ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے براہ راست مذاکرات کی خبروں کی تردید کی ہے اور واضح کیا ہے کہ انہیں صرف واشنگٹن کی طرف سے بات چیت کی خواہش کا پیغام ملا ہے، لیکن ابھی کوئی باقاعدہ گفتگو شروع نہیں ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر تہران سمیت ایران کے کئی علاقوں پر حملے کیے تھے۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ عسکری و سیاسی شخصیات شہید ہوئی تھیں۔
ان شہداء میں وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی شامل تھے۔
ایران نے ان حملوں کے جواب میں دفاعی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔
اب حالیہ سفارتی اشارے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں فریق شاید جنگ کی شدت کو کم کرنے کے لیے کسی درمیانی راستے کی تلاش میں ہیں۔