
ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت مزید تیز ہوگئی، اسرائیلی فوج نے شہری آبادی کوپھرنشانے پرلے لیا، ہتھیاروں اورآبدوزوں کی تیاری کے مراکز تباہ کرنے کادعویٰ کردیا، امریکا نے مزید فوج مشرق وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کرلیا، لبنان پرحملوں میں مزید بائیس افراد شہید اورایک سوترپن زخمی ہوگئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے، جن میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ایرانی حکومت کے بنیادی ڈھانچے کو ہدف بنایا گیا، جبکہ آبدوزوں کی تیاری کی ایک اہم تنصیب پر بھی بمباری کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق اصفہان میں ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق زیرِ آب مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے مطابق 28 فروری سے جاری کارروائیوں کے دوران اب تک تقریباً پندرہ ہزار بم گرائے جا چکے ہیں، جو گزشتہ برس جون میں ہونے والی مختصر جنگ کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں۔
دوسری جانب امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی خبر رساں اداروں کے مطابق 82 واں ایئر بورن ڈویژن سے کم از کم ایک ہزار اہلکار خطے میں تعینات کیے جائیں گے تاکہ سیکیورٹی صورتحال کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔
ادھر لبنان میں بھی اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے جہاں شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق حالیہ حملوں میں 22 افراد جاں بحق جبکہ 157 زخمی ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق 2 مارچ سے جاری کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 1,094 افراد ہلاک اور 3,119 زخمی ہو چکے ہیں، جس کے بعد خطے میں انسانی بحران کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔