
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان بیانات اور مؤقف میں مزید سختی دیکھنے میں آرہی ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا دنیا میں آٹھ جنگیں ختم کرا چکا ہے اور ایک جنگ میں کامیابی کے قریب ہے، جبکہ ان کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات بھی جاری ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کھل کر اس کا اظہار نہیں کر رہا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو تباہ کر دیا ہے اور ایران میں اس وقت ایسی کوئی قیادت موجود نہیں جو سپریم لیڈر بن سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی قیادت کھل کر کسی معاہدے کی بات کرے تو انہیں اپنے ہی ملک میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری معاملات میں پانچ روزہ ٹائم لائن میں توسیع کا فیصلہ صدر ٹرمپ کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے پندرہ نکاتی منصوبے پر کئی غلط فہمیاں موجود ہیں اور ایران کو ان سے باہر آنا ہوگا۔
وائٹ ہاؤس ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے صورتحال کو تسلیم نہ کیا تو امریکا مزید سخت کارروائی کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا خطے میں استحکام اور تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے بھی اقدامات کر رہا ہے۔
ایرانی مؤقف اس کے برعکس ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیج رہا ہے، لیکن تہران کا فی الحال براہ راست مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا بلکہ تنازع کا مستقل اور جامع حل چاہتا ہے، جس میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ اور جوابدہی شامل ہو۔
ایران نے امریکا کے پندرہ نکاتی منصوبے کو بھی مسترد کر دیا ہے اور اس کے جواب میں اپنی شرائط پیش کی ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکا کے مطالبات حد سے زیادہ ہیں اور وہ کسی بھی قسم کی ”ڈکٹیشن“ قبول نہیں کریں گے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک اس کی شرائط تسلیم نہیں کی جاتیں، دفاعی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ایران کی جانب سے پیش کی گئی شرائط میں فوری جنگ بندی، مستقبل میں حملے نہ کرنے کی ضمانت، نقصانات کا معاوضہ، اتحادی گروہوں پر حملوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز پر اپنے اختیار کو تسلیم کروانا شامل ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکا ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے، افزودگی مراکز کو بند کرنے اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنے پر زور دے رہا ہے۔
اس دوران پاکستان سمیت کچھ ممالک کی جانب سے ثالثی کی کوششیں بھی جاری ہیں، تاہم اب تک کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ ایرانی وزارت خارجہ نے پاکستان کی کوششوں کو مثبت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ہمسایہ ممالک سے رابطے میں ہیں۔