
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور ابھی تعطل کا شکار نہیں ہوئے۔ ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے موجودہ صورت حال تسلیم نہ کی تو امریکا مزید سخت حملے کر سکتا ہے۔ ترجمان کے مطابق مذاکرات سے متعلق کسی بھی حتمی پیش رفت کے لیے سرکاری اعلان کا انتظار کیا جائے، 15 نکاتی منصوبے سے متعلق گردش کرنے والی اطلاعات میں خاصی حد تک غلط معلومات شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے موجودہ صورت حال کو تسلیم نہ کیا تو امریکا مزید بڑے حملے کر سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے میڈیا کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات تاحال جاری ہیں اور وہ تعطل کا شکار نہیں ہوئے، بلکہ ان میں پیش رفت ہو رہی ہے۔
کیرولین لیوٹ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ بات چیت پیداواری ہے اور جاری رہے گی، تاہم اگر یہ کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکا اپنے فوجی مقاصد کے حصول کے لیے مزید اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج ایران کے خلاف کارروائی میں اپنے بنیادی اہداف کے قریب پہنچ چکی ہیں۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے موجودہ حقیقت کو تسلیم نہ کیا اور یہ نہ سمجھا کہ اسے عسکری طور پر شکست ہو چکی ہے تو صدر ٹرمپ اسے پہلے سے زیادہ سخت نشانہ بنائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو غلط فہمیوں سے باہر آنا ہوگا اور خطے میں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔
انھوں نے مذاکرات کی تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے اور کسی بھی سرکاری اعلان تک انتظار کیا جانا چاہیے۔ ترجمان نے 15 نکاتی امریکی منصوبے سے متعلق خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کچھ حقیقت ضرور ہے، تاہم کئی رپورٹس مکمل طور پر درست نہیں اور ان میں غلط معلومات بھی شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا خطے میں ایران سے منسلک گروہوں کو کمزور کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جب کہ سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ عسکری دباؤ بھی برقرار رکھا جائے گا۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ ہر صورت میں قوانین اور ضابطوں کی پاسداری کریں گے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے مذاکرات کی خبروں کی تردید سامنے آئی ہے، جس سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، تاہم امریکا کا کہنا ہے کہ بات چیت جاری ہے اور کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے وقت درکار ہے۔