
ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تعیناتیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت اور دوٹوک ردعمل دیا ہے۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں امریکی فوجی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی پالیسیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔
ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تعیناتیوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خطے میں امریکا کی تمام سرگرمیوں، خصوصاً فوجی نقل و حرکت، پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ تہران امریکی اقدامات کو مسلسل مانیٹر کر رہا ہے اور اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
قالیباف نے سخت لہجے میں امریکا اور اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو کچھ جرنیلوں نے بگاڑا ہے، اسے فوجی درست نہیں کر سکتے بلکہ وہ نیتن یاہو کے وہم و گمان کا شکار بنیں گے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ ایران کے عزم کو آزمانے کی کوشش نہ کی جائے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا مشرق وسطیٰ میں مزید ایک ہزار سے دو ہزار فوجی بھیجنے پر غور کر رہا ہے، جب کہ 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے ایک ہزار سے زائد اہلکاروں کی تعیناتی بھی متوقع ہے۔
اس کے علاوہ دو میرین یونٹس بھی خطے میں بھیجے جا رہے ہیں، جس سے تقریباً 5 ہزار میرینز اور ہزاروں سیلرز کی موجودگی میں اضافہ ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق اس وقت پہلے ہی تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں جب کہ مزید 4,500 میرینز خطے کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تعیناتیوں سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جہاں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان تناؤ پہلے ہی عروج پر ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورت حال میں کسی بھی غلط اندازے یا اقدام سے بڑے تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جب کہ ایران کی جانب سے سخت بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔