پاکستان کی ثالثی میں ایران امریکا مذاکرات: بھارت میں مودی پر سخت تنقید

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں پاکستان کے مرکزی کردار نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور مصر کے ساتھ مل کر واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے کا ایک اہم ذریعہ بن گیا ہے۔ تاہم پاکستان کی عالمی سطح پر اس اہمیت نے بھارت میں ہلچل مچا دی ہے۔

پاکستان میں ہونے والے ایران اور امریکا کے ممکنہ مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وانس جیسی اعلیٰ شخصیات کی شمولیت متوقع ہے، ان مذاکرات کا مقصد امریکا کو محفوظ طریقے سے ایران جنگ سے باہر نکالنا ہے۔

پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات نے ثابت کیا ہے کہ اپنی تمام تر اندرونی و بیرونی مشکلات کے باوجود پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی پل کا کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان کے اس فعال سفارتی کردار کی خبریں سامنے آتے ہی بھارت میں ایک طوفان برپا ہو گیا ہے اور وہاں مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔

بھارت کی اپوزیشن جمات ’کانگریس‘ کے رہنما راہول گاندھی نے مودی کی خارجہ پالیسی کو ’مذاق‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ہماری خارجہ پالیسی دراصل وزیراعظم مودی کی ذاتی خارجہ پالیسی ہے اور آپ اس کا نتیجہ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ایک عالمی مذاق بن چکی ہے اور ہر کوئی اسے اسی نظر سے دیکھتا ہے۔“

کانگریس کے سینئر رہنما پون کھیرا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ”جب مودی ملک کے اندر اپنی تعریفوں میں مصروف تھے، تب پاکستان نے ایک اہم عالمی موڑ پر خود کو سفارتی میز پر لا کھڑا کیا۔“

رکن پارلیمنٹ اور کانگریس رہنما جے رام رمیش نے بھی مودی کی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ”پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں اور اپنا بیانیہ پیش کرنے کی صلاحیت مودی حکومت کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر رہی ہے۔“

کانگریس نے ایکس پر جاری ایک ویڈیو میں کہا کہ ”مودی کا اپنا ’وشو گرو‘ کا خطاب اب شہباز شریف کو دے دینا چاہیے“۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر بھارتی صارفین اس بات پر حیرانی اور افسوس کا اظہار کر رہے ہیں کہ اتنے بڑے عالمی بحران میں جہاں پاکستان، ترکیہ اور مصر جیسے ممالک مذاکرات کی میز پر موجود ہیں، وہاں بھارت کہیں نظر نہیں آ رہا۔

بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ نئی دہلی کے لیے ایک بڑی سفارتی ناکامی ہے کیونکہ وہ خود کو ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن عملی طور پر وہ اتنے اہم مذاکرات سے باہر ہے۔

معروف بھارتی مصنف اشوک سوین نے بھی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کو ”احمقانہ اور خود پسندانہ“ قرار دیا۔

بھارتی میڈیا کی جانب سے کیے جانے والے تبصروں میں مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

کئی صارفین نے لکھا کہ یہ بات شرمندگی کا باعث ہے کہ پاکستان جنگ رکوانے کے لیے ہونے والے مذاکرات کا مرکز بن گیا ہے جبکہ یہ مقام بھارت کو حاصل ہونا چاہیے تھا۔

کانگریس رہنما تیجسوی پرکاش نے بھی لکھا: ”امریکا، ایران اور اسرائیل کے ساتھ اچھے تعلقات کے پیشِ نظر یہ توقع کی جا رہی تھی کہ بھارت اس جنگ کو ختم کرانے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔“

بھارت کے ایک تجزیہ کار نے اس صورتحال کو بھارت کے لیے ایک بڑے دھچکے سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے کہ جہاں پاکستان امن کا سفیر بن کر ابھرا ہے، وہیں بھارت پر جنگ میں سہولت کار بننے کے الزامات لگ رہے ہیں۔

بہت سے صارفین نے اس بات پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے کہ بھارتی میڈیا اور حکومت کی جانب سے بڑی بڑی باتیں تو کی جاتی ہیں لیکن جب عالمی سطح پر اثر و رسوخ دکھانے کا وقت آیا تو پاکستان نے اپنی پوزیشن مضبوط کر لی۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حالیہ دنوں میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں اور امریکی و ایرانی حکام کے ساتھ رابطوں نے پاکستان کو دوبارہ عالمی سفارت کاری کے منظر نامے پر نمایاں کر دیا ہے۔

اس پوری صورتحال سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ عالمی طاقتیں اب بھی خطے میں امن کے لیے پاکستان کی جغرافیائی اور سفارتی اہمیت کو تسلیم کرتی ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles