مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ہمارے دروازے تک پہنچ چکی، قوم ذہنی طور پر تیار رہے: خالد مقبول صدیقی


ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات اب پاکستان تک پہنچ چکے ہیں، اور موجودہ صورتحال میں پوری قوم کو متحد اور ذہنی طور پر تیار رہنے کی ضرورت ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ ہمارے دروازے تک پہنچ چکی ہے اور اس کے خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس کا مکمل اندازہ ابھی نہیں لگایا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج اور حکومت نے اس صورتحال میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ایم کیو ایم حکومت کی تمام کاوشوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور پوری قوم اس کے شانہ بشانہ ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ موجودہ حالات میں اتحاد کا مظاہرہ کریں اور ذہنی طور پر ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ثالثی اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے۔
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات، حتیٰ کہ لاک ڈاؤن جیسے آپشن پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کی بہتری کے لیے آئینی و انتظامی اصلاحات ضروری ہیں۔
انہوں نے 28ویں آئینی ترمیم کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے فوری طور پر لایا جائے اور اس کے ذریعے عوام کو بااختیار بنانے کے اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے حکومت کی حمایت کے لیے کوئی مطالبہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں عوام کو اختیارات دینے کے لیے تیار ہیں، اور وہ خود بھی چاہتے ہیں کہ اپنے حصے کا اختیار عوام کو منتقل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بلدیاتی نظام کا نفاذ ضروری ہے اور صرف آئین کے آرٹیکل 140-اے پر عملدرآمد ہونا چاہیے تاکہ کراچی سمیت تمام شہروں کو ان کا حق مل سکے۔

پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ شہری ترقی کے لیے مضبوط بلدیاتی نظام ناگزیر ہے اور جاگیردارانہ طرزِ جمہوریت کے باعث ترقی ممکن نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک میں بااختیار بلدیاتی نظام قائم کیا جائے۔
دوسری جانب ایم کیو ایم کے ایک اور رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک کا نظام چند وزرائے اعلیٰ کے ہاتھوں میں ہے، اور موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے خود کو تیار رکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کے تمام عزائم کو ناکام بنانا ہوگا اور حکومت اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک اور خطہ اس وقت ایک تشویشناک صورتحال سے گزر رہے ہیں، جس کے لیے سنجیدہ اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles