
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق حالیہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کئی اہم دعوے کیے ہیں، جن میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی، ممکنہ معاہدے اور خطے کی بدلتی صورتحال کا ذکر شامل ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکا ایران میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہا ہے اور اب وہاں کی صورتحال میں بڑی تبدیلی آ چکی ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران اب اس بات پر آمادہ ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بار ایران ”سمجھداری سے بات کر رہا ہے“ اور امریکا اب ایسے افراد سے بات چیت کر رہا ہے جو معاہدہ کرنے میں سنجیدہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران میں نئی قیادت سامنے آ چکی ہے اور وہ معاہدے کی جانب بڑھ رہی ہے، تاہم اس کے نتائج کے بارے میں وقت ہی بتائے گا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور وہاں کی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے، جسے انہوں نے ’رجیم چینج‘ قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کی جانب سے امریکا کو ایک اہم ”تحفہ“ بھی ملا ہے، جو تیل اور گیس کے شعبے اور آبنائے ہرمز سے متعلق ہے، تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر شامل ہیں، جو اس عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ خطے کے اہم ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے ایران کے معاملے میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ ممالک صورتحال کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔