امریکا کا ’پیٹرو ڈالر‘ خطرے میں، ایران جنگ عالمی معیشت کا نقشہ کیسے بدل سکتی ہے؟

امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے۔ اسی دوران گولہ بارود کی گونج میں ایک اور خاموش جنگ بھی جاری ہے، جس سے امریکا کے تیل کی عالمی مارکیٹ پر قبضے کے لیے سب سے اہم ہتھیار ’پیٹرو ڈالر‘ کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کی رات ایران کے خلاف ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے نام سے فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔ ایران نے ان حملوں کے جواب میں فوری طور پر جوابی حملے شروع کیے اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔

جہاں ایک طرف امریکا اور اسرائیل منظم انداز میں ایرانی عہدیداروں کو چن چن کر قتل کر رہے ہیں اور اسکولوں، اسپتالوں اور رہائشی علاقوں پر بمباری کر رہے ہیں۔ وہیں ایران نے ان حملوں کا جواب روایتی فوجی حملوں تک محدود رکھنے کے بجائے اپنے اہداف کو معاشی محاذ تک پھیلا رکھا ہے۔

جیو پولیٹیکل اکانومی کی ایران جنگ پر رپورٹ کے مطابق امریکا کے پاس دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے۔ وہ ہر سال اپنی مسلح افواج پر تقریباً ایک ٹریلین ڈالر خرچ کرتا ہے، جبکہ ایران کا دفاعی بجٹ 10 ارب ڈالر سے بھی کم ہے جو امریکا کے بجٹ کا بمشکل ایک فیصد بنتا ہے۔

ایران نے روایتی فوجی طاقت میں اس واضح فرق کو دیکھتے ہوئے ہی امریکا کے معاشی اور اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنانا شروع کیا اور ڈالر کی بالادستی کو بھی چیلنج کر رکھا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ایرانی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران چینی کرنسی میں تیل کی خریدوفروخت کی شرط پر آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے پر غور کر رہا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ ہے جس کے ایک جانب ایران جبکہ دوسری جانب خلیجی ممالک ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کر کے عالمی تیل مارکیٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی، تاہم اب یہ سلسلہ تقریباً رک چکا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جنگ کے چھڑنے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں اور آئل ٹینکرز کی تعداد میں غیر معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ امریکی فوج کے حملے ہوں، صدر ٹرمپ کی دھمکیاں ہوں یا اتحادی ممالک کا دباؤ، آبنائے ہرمز کھلوانے میں اب تک بے سود رہی ہیں۔

اس جنگ نے دنیا میں ایسی صورت حال پیدا کر دی ہے جسے بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے عالمی تیل مارکیٹ کی تاریخ میں سپلائی کا سب سے بڑا تعطل قرار دیا ہے اور خطے میں میری ٹائم ٹریفک میں بھی تقریباً 95 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

ایران نے اسی عرصے میں کچھ ممالک کے بحری جہازوں کو بحفاظت گزرنے کی اجازت دی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی یوآن میں تیل کی خرید و فروخت کرنے والے آئل ٹینکرز کو گزرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔

ایران کی اس نئی حکمتِ عملی کو امریکی طاقت کی شہ رگ ’پیٹرو ڈالر‘ پر براہِ راست حملہ تصور کیا جارہا ہے۔

‘پیٹرو ڈالر‘ وہ نظام ہے جس کے تحت دنیا بھر کا تیل امریکی ڈالر میں خریدا اور بیچا جاتا ہے۔ جس کے لیے ہر ملک کو تیل خریدنے کے لیے ڈالر جمع کرنے پڑتے ہیں۔

اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ جب بھی دنیا میں کہیں تیل خریدا یا بیچا جائے گا، اس کی قیمت صرف امریکی ڈالرز میں ادا کی جائے گی۔ چاہے جاپان سعودی عرب سے تیل خریدے یا جرمنی کسی خلیجی ملک سے، تیل خریدنے والے ملک کو ڈالرز کا ذخیرہ درکار ہوتا ہے، جس کا براہ راست فائدہ امریکی معیشت کو ہوتا ہے۔

پیٹرو ڈالر کی اصطلاح ستر کی دہائی میں پہلی بار اس وقت سامنے آئی جب امریکا نے ڈالر کی گرتی قدر کو سنبھالنے کے لیے 1974 میں سعودی عرب کے ساتھ خفیہ معاہدہ کیا۔

سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن کے دورِ حکومت میں ہونے والے اس معاہدے میں دونوں ممالک میں طے پایا تھا کہ سعودی عرب اپنا تیل صرف ڈالر میں بیچے گا اور اس کی آمدنی ’امریکی ٹریژری بانڈز‘ میں لگائے گا، جس کے بدلے میں امریکا نے سعودی عرب کو فوجی تحفظ کی یقین دہانی کرائی۔

یہ معاہدہ سامنے آنے کے بعد تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک (اوپیک) بھی اس میں شامل ہوگئے، اور اوپیک ممالک بھی تیل کی فروخت ڈالر میں کرنے لگے جسے ’پیٹرو ڈالر ری سائیکلنگ‘ کہا جاتا ہے۔

تیل کی 80 فیصد سے زیادہ عالمی تجارت ڈالر میں ہوتی ہے اور اس نظام کے تحت دنیا کا پیسہ گھوم پھر کر واپس امریکی بینکوں میں آجاتا ہے۔ یہ امریکا کے لیے ایک طرح سے جادوئی چھڑی ثابت ہوا، جس سے امریکا اپنے مالی خسارے اور عالمی فوجی اخراجات آسانی سے پورے کرتا ہے۔

امریکا نے پیٹرو ڈالر کے نظام کو اپنی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ طور پر کئی بار سیاسی اور معاشی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا ہے۔ امریکی معیشت کو غیر معمولی فائدہ حاصل ہوا اور وہ اپنے مالی خسارے اور عالمی فوجی اخراجات آسانی سے پورے کرتا رہا۔

دنیا بھر کے ممالک اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے امریکی ڈالر کے ذخائر رکھنے پر مجبور ہیں لیکن جب بھی کسی ملک نے تیل کی تجارت ڈالر کے بجائے کسی اور کرنسی میں کرنے کی کوشش کی تو اسے امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکا نے ایران اور وینزویلا پر سخت ترین اقتصادی پابندیاں عائد کیں، انہیں ڈالر میں تجارت سے روکا اور عالمی تیل مارکیٹ سے باہر کرنے کی کوشش کی اور خطرہ محسوس ہونے پر ان دونوں ملکوں میں رجیم چینج (حکومت کی تبدیلی) کے لیے کارروائیاں بھی کیں۔

امریکا کی اس اجارہ داری کے خلاف سب سے پہلی آواز عراق کے سابق صدر صدام حسین نے اٹھائی جب انہوں نے 2003 میں پہلی مرتبہ تیل کی قیمت ڈالر کے بجائے یورو میں وصولی کا اعلان کیا۔

اسی طرح لیبیا کے صدر معمر قذافی نے بھی 2011 میں براعظم افریقہ کے لیے سونے پر مبنی کرنسی (گولڈ دینار) متعارف کروانے اور تیل کی تجارت اسی میں کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ تاہم عراق پر حملے اور لیبیا میں خانہ جنگی کے بعد یہ دونوں ملک پھر سے امریکی ڈالر میں تیل کی فروخت پر مجبور ہوگئے۔

اسی طرح روس نے 2014 میں کریمیا کے ساتھ الحاق کیا تو امریکا نے اس پر بھی سخت پابندیاں عائد کردیں۔ یہ وہ موقع تھا جب ’برکس‘ (BRICS) ممالک نے ڈالر پر انحصار کم اور مقامی کرنسیوں میں تجارت کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات شروع کردیے۔

تاہم جون 2024 میں اس معاہدے کی 50 سالہ مدت مکمل ہونے کے بعد صورتحال بدلنا شروع ہوئی۔ سعودی عرب نے اپنی ’ویژن 2030‘ پالیسی کے تحت چینی کرنسی، یورو اور دیگر ذرائع میں ادائیگیاں قبول کرنا شروع کر دیں، جس سے ڈالر کو کسی حد تک چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم پیٹرو ڈالر سسٹم کو سب سے کاری ضرب اس وقت لگی جب امریکا اور اس کے اتحادیوں نے یوکرین پر حملے کے بعد روس کے 300 ارب ڈالر کے غیر ملکی ذخائر منجمد کر دیے۔

یہ جدید تاریخ میں ڈالر کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی سب سے خوفناک مثال تھی، جس نے پوری دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی اور دنیا کو یہ واضح پیغام گیا کہ امریکی بیانیے سے اختلاف کی صورت میں آپکی دولت اور اثاثے سیکنڈوں میں ضبط ہوسکتے ہیں۔

امریکا کی انہی دھونس دھمکیوں کے ردعمل میں کئی ممالک ’ڈی ڈالرائزیشن‘ مہم میں شامل ہوگئے۔ چین، روس، بھارت، برازیل، جنوبی افریقہ کے ساتھ سعودی عرب اور ایران بھی ’برکس‘ (BRICS) بلاک میں شامل ہوگئے۔ جس سے ’ڈی ڈالرائزیشن‘ کی کوششوں مزید تیز اور ’پیٹرو ڈالر‘ کے متبادل مالیاتی نظام کی بنیاد مضبوط ہوئی۔

چین، روس، بھارت اور اب مشرق وسطیٰ کے ممالک (بشمول یو اے ای اور سعودی عرب) ڈالر کا متبادل تلاش کر رہے ہیں جب کہ روس اور چین اپنی زیادہ تر تجارت روبل اور یوان میں کر رہے ہیں۔

آج ڈالر سے بغاوت کرنے والوں میں سب سے آگے چین اور روس ہیں تاہم امریکا کے لیے سعودی عرب کے بعد دوسرا بڑا دھچکا بھارت کی اس مہم میں شمولیت ہے جو دنیا کا تیل درآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔

بھارت اب روس سے خام تیل کی خریداری کے لیے امریکی ڈالر کے بجائے ’بھارتی روپے‘ اور متحدہ عرب امارات سے ’درہم‘ میں تجارت کر رہا ہے۔ یہ ’پیٹرو ڈالر‘ کے نظام میں ایک بہت بڑی دراڑ ہے کیوں کہ بھارت امریکا کا اہم اتحادی ملک ہے۔

ایران اب آبنائے ہرمز اور عالمی تیل کی تجارت پر اپنے جغرافیائی و سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ’پیٹرو ڈالر‘ کو چیلنج کرنے اور اس نظام کا کھلم کھلا مقابلہ کرنے میدان میں آ گیا ہے۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ایک انتہائی کڑی شرط عائد کر دی ہے جسے سفارتی حلقوں میں ’یوان الٹی میٹم‘ کہا جا رہا ہے۔

سی این این اور یورپیئن بزنس میگزین کی رپورٹس کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے صرف ان آئل ٹینکرز کو گزرنے کی اجازت ملے گی جو امریکی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی ’یوان‘ میں خریدوفروخت کریں گے۔

دوسری جانب بلومبرگ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی پاسداران انقلاب نے خطے میں ایک نیا کلیئرنس اور سیکیورٹی سسٹم نافذ کر دیا ہے جس کے تحت اِن شرائط پر پورا نہ اترنے والے تجارتی جہازوں سے فی چکر 20 لاکھ ڈالر تک کی غیر رسمی ٹرانزٹ فیس وصول کی جارہی ہے۔ بھارت میں ایرانی سفارت خانے نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب میڈیا میں ایسی رپورٹس بھی سامنے آئیں کہ ایران ایسے منصوبے پر غور کر رہا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز کو محفوظ راستے کے طور پر استعمال کرنے والے ممالک کو ڈیوٹیز اور ٹیکس ادا کرنا ہوں گے۔

اسی عرصے میں پاکستان اور چین سمیت دیگر ممالک خصوصاً چینی جہازوں کے اس علاقے سے بحفاظت گزرنے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں۔ اسی طرح بھارت جیسے ممالک جو متبادل کرنسیوں میں تجارت کی کوشش کر رہے ہیں، ان کے جہازوں کو بھی محدود استثنیٰ دیا گیا تھا۔

مشرقِ وسطیٰ اور خطہ خلیج کے حالات پر گہری نظر رکھنے والی پروفیسر لالے خلیلی کے مطابق ایران کی جانب سے ڈالر کے بجائے چینی کرنسی ’یوان‘ میں تیل کی تجارت کی تجویز عالمی مالیاتی نظام میں بڑی تبدیلی کا اشارہ ہوسکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر تیل کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو قلیل مدت میں اس کا فائدہ تیل کمپنیوں کو ہوگا، تاہم طویل مدت میں توانائی کے متبادل ذرائع خصوصاً چین کی سستی ٹیکنالوجیز زیادہ اہمیت اختیار کر جائیں گی۔

ماہرین کے مطابق اگر اس خطے میں یہ شرط مستقل طور پر نافذ ہو جاتی ہے تو دنیا کی تیل کی مارکیٹ دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ وہ ممالک جو سستا تیل چاہتے ہیں انہیں مجبورا ڈالر چھوڑ کر یوان کی طرف آنا پڑے گا اور اگر ایسا ہوا تو یہ امریکا کے سب سے اہم ہتھیار ’پیٹرو ڈالر‘ کے خاتمے کا باقاعدہ آغاز ہوگا، ڈالر اپنی اہمیت برقرار رکھے گا مگر واحد غالب کرنسی نہیں رہے گا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles