
پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکراتی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے پیشکش کی ہے کہ اگر امریکا اور ایران رضامند ہوں تو وہ ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اہم پیشکش سامنے رکھی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کے لیے مذاکراتی عمل کا خیرمقدم کرتا ہے اور اسے مکمل حمایت فراہم کرتا ہے۔
وزیراعظم کے بیان کے مطابق اگر امریکا اور ایران اس پر رضامند ہوں تو پاکستان ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
انھوں نے واضح کیا ہے کہ وہ ایک غیرجانبدار اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے دونوں فریقین کے درمیان بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کی سہولت فراہم کرنے کو تیار ہیں، تاکہ جاری تنازع کا جامع اور پائیدار حل نکالا جا سکے۔
پیر کو فلوریڈا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے پُرعزم ہیں، ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے اور ایران کے قابل احترام رہنما سے بات چیت ہوئی ہے، مشرقی وسطیٰ میں جنگ کے مکمل اور حتمی حل سے متعلق انتہائی نتیجہ خیز گفتگو ہوئی ہے، تفصیلی اور تعمیری بات چیت پورے ہفتے جاری رہے گی، اُمید ہے ایران کے مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔
یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور عالمی سطح پر مختلف ممالک اس کے پرامن حل کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔