
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹس پر ممکنہ فوجی حملے پانچ دن کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم ایران نے امریکا سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کی کوئی بات چیت جاری نہیں ہے، تہران اور واشنگٹن کے درمیان نہ براہ راست اور نہ ہی کسی ثالث ذریعے کے ذریعے کوئی رابطہ موجود ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی صدر کے مذاکرات سے متعلق دعوے حقائق کے برعکس ہیں۔ دو روز قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بیان دیا تھا کہ ایران میں ایسا کوئی لیڈر موجود نہیں جس سے بات چیت کی جا سکے تاہم اس کے بعد انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کا دعویٰ کیا۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے سخت ردعمل اور دھمکی کے بعد ہی امریکی صدر نے بات چیت کا بیان دیا جب کہ ایک ایرانی عہدیدار کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایران کی وارننگ کے بعد ٹرمپ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے بھی کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کوئی رابطے نہیں ہوئے، ٹرمپ کے حالیہ بیان کا مقصد توانائی کی قیمتوں میں کمی لانا اور اپنے فوجی منصوبوں کے لیے وقت لینا ہے، کشیدگی کم کرنے کے لیے کچھ اقدامات موجود ہیں، امریکا کو خود اس معاملے میں بات چیت کرنی چاہیے کیوں کہ یہ جنگ ہم نے شروع نہیں کی، ہوسکتا ہے ٹرمپ کچھ بڑا کرنے سے پہلے ٹائم خرید رہا ہو، اور یہ سب دھوکا ہو۔
دوسری جانب ایران کی قومی سلامتی کے ترجمان ابراہیم رضائی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ جنگ جاری ہے ، دشمن کو ایک اور شکست کا سامنا ہوا ہے ،ٹرمپ اور امریکا ایک بار پھر شکست کھا چکے ہیں۔
ادھر امریکی صدر کے اعلان کے بعد ایران اور روس کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا ہے،روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے فوری طور پر سیزفائر کا مطالبہ کیا ہے ، لاروف نے کہا کہ ایران اور تمام فریقین کے جائز مفادات کو مدنظر رکھ کر حل تلاش کیا جائے۔
یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ دو روز کے دوران ”بہت اچھے اور نتیجہ خیز“ مذاکرات ہوئے، جن کا مقصد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا مکمل خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاری بات چیت کے نتائج سامنے آنے تک ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی فوجی کارروائی کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔
ٹرمپ کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران کو آبنائے ہرمز تمام جہاز رانی کے لیے کھولنے کے لیے 48 گھنٹوں کی مہلت دی گئی تھی، جس کی مدت آج ختم ہو رہی تھی۔
رپورٹ میں ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کے خدشے کے بعد اپنا مؤقف تبدیل کیا۔
ذرائع کے مطابق ایران نے خبردار کیا تھا کہ اگر اس کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا تو وہ اسرائیل کے پاور پلانٹس اور خلیجی خطے میں امریکی اڈوں کو بجلی فراہم کرنے والی تنصیبات پر حملہ کرے گا۔
ادھر ایک ذریعے نے بتایا کہ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ اپنی بات چیت سے اسرائیل کو آگاہ رکھا ہے اور امکان ہے کہ اسرائیل بھی ایران کے توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے سے عارضی طور پر گریز کرے گا تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دریں اثنا ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی منڈیوں میں تیزی دیکھی گئی، برینٹ خام تیل کی قیمت عارضی طور پر تقریباً 13 فیصد کمی کے بعد 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی تاہم بعد ازاں یہ دوبارہ 105 ڈالر کے قریب پہنچ گئی۔
اسی طرح عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی اور امریکی اسٹاک فیوچرز میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔