
روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے ایرانی قیادت کو نوروز کی مبارکباد دیتے ہوئے ایران کی بلامشروط حمایت کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ماسکو مشکل وقت میں تہران کا قابلِ اعتماد دوست اور شراکت دار ہے اور ہر مشکل گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کو ایرانی نئے سال نوروز کے موقع پر تہنیتی پیغام بھیجا اور کہا کہ روس ایران کے ساتھ ہے۔
روسی صدر پیوٹن نے ایرانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مشکل حالات میں روس، ایران کا ایک وفادار دوست اور قابلِ اعتماد شراکت دار ہے۔
خیال رہے کہ روسی صدر کی جانب سے ایران کی حمایت کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری ہیں جب کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں اب تک 1400 سے زائد ایرانی شہری شہید ہوچکے ہیں جن میں 204 بچے شامل ہیں۔
دوسری جانب ایران کو درپیش موجودہ بحران کے تناظر میں بعض ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماسکو کی جانب سے عملی تعاون محدود رہا ہے، جس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
روس کا مؤقف ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں نے مشرق وسطیٰ کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے اور اس کے نتیجے میں عالمی توانائی بحران بھی پیدا ہوا ہے۔
روسی صدر نے ایرانی قیادت کے قتل کو ”سنگدلانہ اقدام“ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت بھی کی۔
ادھر ایک امریکی جریدے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ماسکو نے واشنگٹن کو تجویز دی تھی کہ اگر امریکا یوکرین کو انٹیلی جنس فراہم کرنا بند کرے تو روس ایران کے ساتھ معلومات کا تبادلہ روک سکتا ہے تاہم امریکا نے اس تجویز کو مسترد کر دیا جب کہ کریملن نے اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ روس اور ایران کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری موجود ہے تاہم اس میں باہمی دفاع کی کوئی شق شامل نہیں اور روس بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ ایران کے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے حق میں نہیں کیوں کہ اس سے خطے میں اسلحے کی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ ہے۔