اسرائیل نے مسجد اقصیٰ کو بند کردیا، 59 سال میں پہلی بار عید کی نماز باہر ادا

اسرائیل نے سیکیورٹی کے نام پر مسجد اقصیٰ کو بند کر دیا، جس کے نتیجے میں 59 سال میں پہلی بار عیدالفطر کی نماز مسجد کے باہر ادا کی گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں کو نماز عید ادا کرنے سے روک دیا گیا ہے، 1967 کے بعد پہلی بار رمضان کے اختتام پر مسجد اقصیٰ کو مکمل طور پر بند رکھا گیا، جس کے باعث فلسطینی نمازیوں کو اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے مسجد کے داخلی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے، جس کے باعث سینکڑوں فلسطینیوں کو بیت المقدس کے پرانے شہر کے باہر نماز عید ادا کرنا پڑی۔

اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا تاہم فلسطینی حلقوں نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات مستقبل میں بھی مذہبی عبادات پر پابندیوں کا باعث بن سکتے ہیں، جو ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔

دوسری جانب مسجد اقصیٰ کے باہر نماز کی ادائیگی کے بعد اسرائیلی فوج نے نمازیوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل فائر کیے، جس سے نمازیوں میں بھگدڑ مچ گئی اور کشیدگی میں اضافہ ہو گیا۔

مقامی سطح پر اس پیش رفت کے باعث عید کی روایتی رونقیں متاثر ہوئیں جب کہ علاقے میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles