ایران کی فضائی حدود میں جدید ترین امریکی ایف 35 طیارے کو نقصان، ہنگامی لینڈنگ کی اطلاعات

امریکا کا انتہائی جدید اور مہنگا ترین جنگی طیارہ ایف 35 ایرانی فائرنگ کا نشانہ بننے کے بعد ایک امریکی فضائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

یہ انکشاف امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے ذرائع کے حوالے سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کیا ہے۔

سی این این کے مطابق، اس معاملے سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ طیارہ ایران کے اوپر ایک جنگی مشن پر تھا جب اسے مبینہ طور پر ایرانی دفاعی نظام یا فائرنگ سے نقصان پہنچا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پانچویں نسل کا یہ اسٹیلتھ جیٹ طیارہ بحفاظت زمین پر اتر گیا ہے اور اس کا پائلٹ بھی بالکل خیریت سے ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ طیارے کو کتنا نقصان پہنچا اور اس پر حملہ کس نوعیت کا تھا۔

فروری کے آخر میں شروع ہونے والی اس جنگ کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ ایران کی جانب سے کسی امریکی طیارے کو نشانہ بنانے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

واضح رہے کہ ایف 35 ایک انتہائی قیمتی طیارہ ہے جس کی مالیت 10 کروڑ ڈالر سے بھی زیادہ ہے اور اس وقت امریکا اور اسرائیل دونوں ہی ایران کے خلاف اس ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکی دفاعی حکام مسلسل اپنی کامیابیوں کے دعوے کر رہے ہیں۔

امریکا کے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے حال ہی میں بیان دیا تھا کہ امریکا اس جنگ میں فیصلہ کن فتح حاصل کر رہا ہے اور ایران کا فضائی دفاعی نظام تقریباً تباہ کر دیا گیا ہے۔

تاہم اس جدید ترین طیارے کو پہنچنے والے نقصان نے امریکی ماہرین کے لیے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اس صورتحال نے خطے میں جاری فضائی معرکے کی حساسیت کو مزید بڑھا دیا ہے اور اب سب کی نظریں اس تحقیقات پر لگی ہیں کہ آیا ایران کا دفاعی نظام اب بھی امریکی طیاروں کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles