
اسرائیلی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس نے علی لاریجانی کو ٹریس کرنے کے لیے بھرپور وسائل استعمال کیے تاہم وہ اسرائیلی نگرانی سے بچنے کے لیے مسلسل اپنا مقام تبدیل کرتے رہے، آخرکار انہیں ٹریس کر لیا گیا۔
اسرائیلی اخبار دی یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق علی لاریجانی سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد اسرائیل کا اولین ہدف بن گئے تھے، جس کے بعد انہیں تلاش کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر انٹیلی جینس اور آپریشنل وسائل استعمال کیے گئے۔
اسرائیلی فوج نے ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو منگل کے روز فضائی حملے میں شہید کیا۔ وہ اپنی لوکیشن خفیہ رکھنے میں ماہر سمجھے جاتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق علی لاریجانی نگرانی سے بچنے کے ہنر میں مہارت رکھتے تھے، اسی لیے انہوں نے کئی احتیاطی تدابیر اختیار کیں۔
رپورٹ کے مطابق علی لاریجانی کی شناخت اور ان تک رسائی اسرائیل کے لیے بڑا چیلنج رہی، کیونکہ وہ طویل عرصے سے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنی سرگرمیاں اور نقل و حرکت خفیہ رکھتے تھے۔
اسی دوران اسرائیلی فوج نے بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کو بھی ہدف بنایا جو سرکاری کوارٹر کے بجائے عارضی خیموں میں چھپ کر رہ رہے تھے تاہم اسرائیلی انٹیلی جینس نے انہیں بھی ٹریس کرلیا۔
رپورٹ کے مطابق علی لاریجانی کو ٹریس کرنے میں اسرائیل نے خصوصی پلاننگ کی۔
اخبار نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ انٹیلی جینس کی جانب سے علی لاریجانی سے متعلق خفیہ معلومات کو اعلیٰ فیصلہ سازوں تک فوری پہنچایا گیا۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر اور سیاسی قیادت نے اس معاملے پر فوری سر جوڑا اور کارروائی کا فیصلہ کیا۔
اسرائیلی فضائیہ نے گرین سگنل ملنے کے بعد لڑاکا طیاروں کو تقریباً 1600 کلومیٹر دور اس اہم مشن پر روانہ کیا، جس سے آپریشن کی کامیابی ممکن ہوئی۔ اسی شام علی لاریجانی اور بسیج فورس کے اعلیٰ عہدیداران کو مختلف مقامات پر بیک وقت نشانہ بنایا گیا۔