فضائی حملے میں اسپتال کی تباہی کا دعویٰ، افغان جریدے نے طالبان حکومت کا جھوٹ بے نقاب کردیا


پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کیے گئے حالیہ فضائی حملوں کے بعد افغان جریدے نے اس معاملے پر اپنی رپورٹ جاری کی ہے، جس افغان طالبان کے پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا گیا ہے۔
افغان جریدے کا کہنا ہے کہ حملے میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم طالبان کی جانب سے اس کے برعکس دعویٰ کیا گیا کہ فضائی کارروائی میں ایک اسپتال متاثر ہوا۔
افغان جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے بعد طالبان نے منشیات کے عادی افراد کے ایک اسپتال کو آگ لگا دی اور بعد میں دعویٰ کیا کہ اسے بمباری میں نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق جاری کی گئی تصاویر میں اسپتال کا سائن بورڈ محفوظ دکھائی دیتا ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا واقعی یہ عمارت فضائی حملے کا نشانہ بنی یا نہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اسپتال پر حملے کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے، تاہم افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق ان ہلاکتوں کے شواہد کے طور پر بڑی تعداد میں تصاویر یا لاشوں کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں اور صرف محدود تصاویر ہی جاری کی گئیں۔
افغانستان انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ پاکستانی طیاروں نے مبینہ کلینک سے تقریباً دو سو میٹر دور اہداف کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں آپریشن غضب للحق کے تحت کی گئیں اور ان میں صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کابل میں دو مقامات پر اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مراکز اور تکنیکی معاونت کے انفراسٹرکچر کو تباہ کیا گیا، جہاں سے دھماکوں کے بعد بلند شعلے اٹھتے دیکھے گئے۔

اسی طرح ننگرہار میں بھی چار مختلف مقامات پر طالبان کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد ان عناصر کو نشانہ بنانا تھا جو پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے۔
پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد کے ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ حملوں میں شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا۔

وزارت کے مطابق اس طرح کے بیانات کا مقصد عالمی اور مقامی رائے عامہ کو گمراہ کرنا ہے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ فضائی کارروائیاں انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئیں تاکہ کسی شہری مقام کو نقصان نہ پہنچے۔
حکام کے مطابق نشانہ بنائے گئے مقامات فتنہ الخوارج کے زیر استعمال تھے۔
پاکستانی حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ملک ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کو ترجیح دیتا رہا ہے، تاہم اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles