
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کی بحری اور فضائی طاقت کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ حالیہ فوجی کارروائیوں کے دوران ایران کے دفاعی نظام، ریڈار سسٹم اور اہم فوجی رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ ان کے بیلسٹک میزائل لانچرز کا پچانوے فیصد حصہ تباہ ہو چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک اہم مشاورتی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اس آپریشن میں ایران کے سو سے زائد بحری جہازوں اور تیس بحری بیڑوں کو غرق کر دیا گیا ہے جن میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیاں بھی شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں واضح کیا کہ ایران میں سات ہزار سے زیادہ فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے تیل کی تنصیبات پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اب ایران کی میزائل داغنے کی صلاحیت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
اس موقع پر امریکی صدر نے اپنے اتحادی ممالک کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جن ملکوں کی ماضی میں امریکا نے مدد کی، وہ آج اس مشکل وقت میں دستیاب نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جن ممالک کا تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے انہیں خود آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے کیونکہ امریکا کا صرف ایک فیصد تیل اس راستے سے گزرتا ہے۔
عالمی معیشت اور توانائی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا اب تیل کی پیداوار میں دنیا کا نمبر ون ملک بن چکا ہے اور اسے وینزویلا سے بھی لاکھوں ملین بیرل تیل دستیاب ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے مختلف ممالک سے بات چیت جاری ہے تاہم امریکا اپنے دفاعی مقاصد میں تیزی سے کامیاب ہو رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے ایران کے حوالے سے اس جنگ کی پیش گوئی پہلے ہی کر دی تھی اور اب امریکا کے پاس تیل کی اتنی بڑی مقدار موجود ہے کہ اسے کسی بیرونی دباؤ کی ضرورت نہیں ہے۔