ایران کا جنگ جاری رکھنے کا اعلان، ’سیز فائر یا مذاکرات کی درخواست نہیں کی‘

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جاری جنگ کے دوران کئی اہم معاملات پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے نہ تو جنگ بندی کی درخواست کی ہے اور نہ ہی اس وقت امریکا کے ساتھ کسی مذاکرات کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران اپنی دفاعی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

امریکی ٹی وی چینل ’سی بی ایس نیوز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے ایران کے جوہری مواد، ایران میں قید امریکی شہریوں اور انٹرنیٹ کی بندش سمیت مختلف سوالات کے جواب دیے۔

انہوں نے بتایا کہ ایران کا افزودہ یورینیم ان تنصیبات کے ملبے کے نیچے موجود ہے جو حالیہ حملوں میں تباہ ہو گئی تھیں۔

عباس عراقچی کے مطابق عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ مواد تباہ شدہ تنصیبات کے ملبے کے نیچے موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں اس جوہری مواد نکالنے کا فیصلہ کیا گیا تو یہ عمل عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں کیا جائے گا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ایران کے پاس ملبے کے نیچے سے اس مواد کو نکالنے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ ماضی میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوران ایران نے اپنے 60 فیصد افزودہ یورینیم کو کم کرنے کی پیشکش بھی کی تھی، لیکن موجودہ صورتحال میں ایسی کسی پیشکش یا مذاکرات کا معاملہ زیر غور نہیں ہے۔

انٹرویو کے دوران ایران میں قید امریکی شہریوں کے بارے میں سوال پر عباس عراقچی نے کہا کہ اگر امریکا اور اسرائیل ایران کی جیلوں کو نشانہ نہیں بناتے تو قیدی محفوظ رہیں گے۔

ایران میں قید امریکی شہریوں میں صحافی رضا ولی زادہ اور کامران حکمتے کا نام بھی شامل ہے۔

انٹرنیٹ کی بندش کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایران میں عام شہریوں کے لیے انٹرنیٹ تک مکمل رسائی محدود ہے، تاہم انہوں نے خود کے انٹرنیٹ استعمال کرنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایرانی عوام کی آواز کو عالمی سطح پر پہنچانے کے لیے آن لائن رہتے ہیں۔

ان کے مطابق جنگ کے دوران سیکیورٹی خدشات کے باعث حکومت نے انٹرنیٹ پر پابندیاں عائد کی ہیں تاکہ عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

عباس عراقچی نے ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے بارے میں بھی وضاحت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی کارروائیاں دراصل امریکا کی جانب سے خطے کے اتحادی ممالک کی سرزمین استعمال کرنے کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں۔

ان کے مطابق جب امریکا ان ممالک کی سرزمین سے ایران پر حملے کرتا ہے تو ایران کے پاس جواب دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا۔

انہوں نے کہا کہ ایران صرف امریکی فوجی اثاثوں، تنصیبات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

ان کے مطابق ایران کا مقصد عام شہریوں کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ ان مقامات کو نشانہ بنانا ہے جہاں سے ایران پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے عباس عراقچی نے کہا کہ یہ راستہ مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا۔

ان کے مطابق ایران دیگر ممالک کے جہازوں کو گزرنے کے لیے سیکیورٹی فراہم کرتا ہے، تاہم امریکا کی جارحیت کی وجہ سے علاقے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جس کے باعث بعض جہاز اس راستے سے گزرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس جنگ کو بقا کی جنگ نہیں سمجھتا اور حکومت اپنے نظام کو مضبوط تصور کرتی ہے۔

ان کے مطابق ایران اتنا مستحکم ہے کہ اپنے عوام کا دفاع کر سکے اور اس مقصد کے لیے مذاکرات کیے بغیر بھی اپنی حکمت عملی جاری رکھ سکتا ہے۔

عباس عراقچی نے امریکی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ موجودہ جنگ امریکا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا انتخاب ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس تنازع میں لوگ مارے جا رہے ہیں جبکہ ایران اپنے دفاع کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles