
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما نہال ہاشمی نے سندھ کے 32ویں گورنر کے طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس کراچی میں منعقد ہوئی۔
تقریب میں سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس ظفر احمد راجپوت نے نہال ہاشمی سے عہدے کا حلف لیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی کابینہ کے ارکان، اعلیٰ سرکاری حکام اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔
حلف برداری کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نومنتخب گورنر سے ملاقات کی اور انہیں آئینی عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ سندھ اسمبلی کے اسپیکر سید اویس قادر شاہ نے بھی نہال ہاشمی کو نیک خواہشات کا پیغام دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دیں گے۔
حلف اٹھانے کے بعد نہال ہاشمی مزارِ قائد بھی گئے جہاں انہوں نے پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کو خراج عقیدت پیش کیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ ان کا وژن ہے کہ کراچی سے لے کر اُبارو تک پورے سندھ میں ترقی اور خوشحالی نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صوبے کے تمام علاقوں کی بہتری کے لیے کام کریں گے۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی جانب سے سامنے آنے والی بعض تحفظات سے متعلق سوال کے جواب میں نہال ہاشمی نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “وہ ہمارے پاکستانی بھائی ہیں، پہلے بھی مسائل بات چیت سے حل ہوئے اور آئندہ بھی ہو جائیں گے۔”
ادھر ذرائع کے مطابق سابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی جانب سے مقرر کیے گئے نصف درجن سے زائد مشیروں کو بھی ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق گورنر کو مشیر مقرر کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔