آئی ایم ایف کا مہنگائی قابو میں رکھنے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے پر زور

پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈز (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری اقتصادی جائزہ مذاکرات آج بھی کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران قرض پروگرام کے تیسرے جائزے، مالیاتی خسارے کو کم کرنے، مہنگائی پر قابو پانے اور توانائی کے شعبے کی اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا گیا، تاہم تمام امور پر مکمل اتفاق نہیں ہوسکا۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ 25 فروری سے 11 مارچ تک ہونے والے مذاکرات کا اعلامیہ جاری کردیا۔

اعلامیے کے مطابق مذاکرات آئندہ چند روز بھی جاری رہیں گے، تاکہ قرض پروگرام کے معاملات اور دیگر اصلاحات پر بات چیت مکمل کی جا سکے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف وفد کی قیادت ایوا پیٹرووا نے کی، اور قرض پروگرام پر عملدرآمد پاکستان کے وعدوں کے مطابق رہا۔

۔

مذاکرات میں مالیاتی خسارے کو کم کرنے، پبلک فنانس مضبوط بنانے اور مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔

توانائی کے شعبے کی اصلاحات اور کارکردگی بہتر بنانے کے موضوع پر بھی گفتگو ہوئی، جبکہ سماجی تحفظ، صحت اور تعلیم کے اخراجات بڑھانے کے امور پر پاکستانی معاشی ٹیم کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

مزید برآں، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اصلاحاتی اقدامات میں پیشرفت، مشرق وسطیٰ کے تنازع کے پاکستان کی معیشت پر اثرات اور عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور مالی دباؤ پر تشویش کو بھی مذاکرات میں زیر بحث لایا گیا۔

آئی ایم ایف کے مطابق مذاکرات کے دوران تمام اہم شعبوں کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ چند روز میں مزید بات چیت جاری رہے گی تاکہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدے تک پہنچنے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles