عراق میں آئل ٹینکروں پر حملوں سے عالمی منڈی متاثر، خام تیل کی قیمت 9 فیصد بڑھ گئی

ایران نے عراقی سمندری حدود میں دو آئل ٹینکرز کو نشانہ بنا کر آگ لگا دی جب کہ خطے میں تیل اور نقل و حمل کی تنصیبات پر حملے تیز کر دیے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ عالمی منڈی کو 200 ڈالر فی بیرل تیل کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ جیتنے کے دعوے کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی اور توانائی بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تقریباً دو ہفتے قبل امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں اب تک تقریباً 2 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ عالمی توانائی منڈی اور سمندری نقل و حمل شدید متاثر ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کے مطابق اس تنازع میں اب تک 1100 سے زائد بچے ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست کینٹکی میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا جنگ جیت چکا ہے، تاہم انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ہر دو سال بعد دوبارہ جنگ میں ملوث نہیں ہونا چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کام مکمل کرنا ہوگا۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اس ہفتے کے آغاز میں تقریباً 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے بعد کم ہو کر تقریباً 90 ڈالر پر آ گئی تھیں، تاہم بدھ کو قیمتوں میں دوبارہ تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوا اور ایشیائی منڈیوں میں بھی یہ اضافہ جاری رہا۔ توانائی کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث وال اسٹریٹ سمیت عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی کمی دیکھی گئی۔

ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ طویل معاشی دباؤ پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ایرانی فوجی کمان کے ترجمان نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تیل کو 200 ڈالر فی بیرل تک جانے کے لیے تیار رہیں، کیونکہ تیل کی قیمت خطے کے امن سے جڑی ہے جسے آپ نے غیر مستحکم کیا ہے۔

سمندری سیکیورٹی اداروں اور بندرگاہی حکام کے مطابق بارودی مواد سے لدی ایرانی کشتیوں نے عراقی پانیوں میں دو فیول ٹینکرز کو نشانہ بنایا جس سے ان میں آگ لگ گئی اور ایک عملے کا رکن ہلاک ہو گیا۔ اسی دوران خلیجی پانیوں میں تین تجارتی جہازوں کو بھی گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا۔

ایران نے بحرین کے علاقے محرق میں واقع ایک تنصیب پر ایندھن کے ٹینکوں کو بھی نشانہ بنایا، جس کی تصدیق بحرین کی وزارت داخلہ نے کی ہے۔

عالمی توانائی ایجنسی (IEA) نے تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے کو روکنے کے لیے عالمی اسٹریٹجک ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے کی سفارش کی ہے، جو 1970 کی دہائی کے بعد توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے سب سے بڑا اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔ امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے بتایا کہ ٹرمپ نے اگلے ہفتے سے امریکی اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر سے 17 کروڑ 20 لاکھ بیرل تیل جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

ادھر آبنائے ہرمز، جو دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، اب تک بند ہے اور بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت ممکن نہیں ہو سکی۔ ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر اس کے کنٹرول میں ہے۔

جی سیون ممالک جن میں امریکا، کینیڈا، جاپان، اٹلی، برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے خلیج میں جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے بحری محافظت فراہم کرنے کے امکان کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا ہے۔

ٹرمپ کے دعوے کے مطابق امریکی افواج نے ایران کی 58 بحری کشتیوں کو تباہ کر دیا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بھی نصب کر دی ہیں جس سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایران اور اس سے منسلک تنظیمیں عراق میں امریکی تیل اور توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔ ماضی میں ایسے گروپس امریکی شہریوں کی آمدورفت والے ہوٹلوں کو بھی نشانہ بناتی رہی ہیں۔

امریکا اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ایران کی بیرون ملک فوجی اثر و رسوخ کو ختم کرنا اور اس کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنا ہے۔ اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق ایران میں اب بھی کئی اہداف موجود ہیں جن میں بیلسٹک میزائل اور جوہری تنصیبات شامل ہیں۔

ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی بندرگاہوں کو نشانہ بنایا گیا تو خطے کے معاشی اور تجارتی مراکز کو بھی جائز اہداف سمجھا جائے گا۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث تیل کی عالمی قیمتیں اب اس جنگ کے اہم ترین عوامل میں شامل ہو گئی ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles