
ایران میں جاری حملوں کے بعد انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں ملک کے کئی طبی اور تعلیمی ادارے متاثر ہوئے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں عام شہری بھی جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کی صحت کمیٹی کے رکن محمد جمالیان نے کہا ہے کہ حالیہ حملوں کے بعد ملک کے کم از کم نو اسپتال مکمل طور پر غیر فعال ہو چکے ہیں۔
ان کے مطابق جنگی صورتحال کے باعث اسپتالوں پر شدید دباؤ ہے، اسی لیے غیر ضروری طبی عمل جیسے کاسمیٹک سرجریاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں تاکہ ایمرجنسی مریضوں کے لیے زیادہ جگہ اور وسائل فراہم کیے جا سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت ایران کے پاس ادویات کا ذخیرہ تقریباً چھ ماہ کے لیے موجود ہے۔
دوسری جانب ایران کے صوبہ لرستان کے محکمہ تعلیم کے سربراہ نے بتایا کہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم چار طلبہ مارے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں صوبے کے 52 اسکولوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جس سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے بھی جنگ کے دوران بچوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان کے مطابق اب تک امریکی اور اسرائیلی حملوں میں 193 بچے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جن میں سب سے کم عمر آٹھ ماہ کی ایک بچی تھی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جنگ میں چار ماہ کا ایک بچہ زخمی بھی ہوا ہے۔
ترجمان کے مطابق حملوں کے دوران طبی شعبہ بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک 11 طبی کارکن ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 52 صحت کی سہولت فراہم کرنے والے یونٹس، 29 طبی مراکز، 19 ایمرجنسی یونٹس اور 16 ایمبولینسز کو نقصان پہنچا ہے۔ ان میں سے چار ایمبولینسیں اور ایک ریسکیو ہیلی کاپٹر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی شہری انفراسٹرکچر، خاص طور پر اسپتالوں اور اسکولوں پر حملوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق جنگ کے دوران ایران میں صحت کے مراکز پر متعدد حملوں کی تصدیق ہو چکی ہے، جس کے باعث طبی نظام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔