امریکا۔اسرائیل جنگ کے باوجود عراق میں ایران کے حامی گروہ خاموش کیوں؟

عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باوجود عراق میں موجود زیادہ تر ایران نواز مسلح گروہ ابھی تک بڑے پیمانے پر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں اور تہران کے واضح احکامات کے منتظر ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق ایران کے حمایت یافتہ عراقی مسلح تنظیمیں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے باوجود اب تک بڑے پیمانے پر جنگ میں شامل نہیں ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ عراق میں ایران کے حامی ایک مسلح گروہ کے کمانڈر، جنہیں سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر فرضی نام دیا گیا ، ان کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی ایک ہفتے سے تہران سے احکامات کا انتظار کر رہے ہیں، تاہم اب تک کوئی واضح ہدایت جاری نہیں کی گئی۔

حالیہ دنوں میں بعض تنظیموں نے محدود حملوں کا دعویٰ ضرور کیا ہے۔ ایک گروہ نے کہا کہ اس نے عراق اور خطے میں دشمن کے اڈوں پر ڈرون حملے کیے، جب کہ شمالی عراقی شہر ایربل (عراق میں کردستان ریجن کا دارالحکومت) میں بھی دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں جہاں امریکی فوجی اڈہ موجود ہے۔ تاہم کرد حکام کے مطابق زیادہ تر میزائل اور ڈرون حملے براہ راست ایران کی جانب سے کیے گئے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ماضی میں ایران کا ایک مضبوط علاقائی اتحادی نیٹ ورک موجود تھا جو لبنان، غزہ، یمن اور عراق تک پھیلا ہوا تھا، تاہم حالیہ برسوں میں اس نیٹ ورک کو شدید دھچکے لگے ہیں۔ اس علاقائی اتحاد کو محورِ مزاحمت کہا جاتا تھا۔

خصوصاً 2020 میں ایرانی جنرل قاسم سلمیانی کی امریکی حملے میں ہلاکت اور بعد ازاں لبنان میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی اسرائیلی کارروائی میں شہادت کو ایران کے اتحادی نظام کے لیے بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ شام میں سابق صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایران کے لیے ایک اہم سپلائی راستہ بھی ختم ہو گیا جس سے اس کے اتحادی گروہوں کی عسکری صلاحیت متاثر ہوئی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے ماہرِ مشرقِ وسطیٰ سیاست کے مطابق عراق میں کئی ایران نواز ملیشیا رہنما اب سیاست اور کاروبار میں سرگرم ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بعض پارلیمنٹ اور حکومت میں بھی اثر و رسوخ رکھتے ہیں، اس لیے وہ امریکا یا مغربی ممالک کے ساتھ براہ راست تصادم سے گریز کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اب یہ کہنا درست نہیں کہ عراق کے تمام مسلح گروہ مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہیں۔ بعض گروہ اب اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کو بھی ترجیح دے رہے ہیں۔ تاہم عراقی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اگر جنگ طویل ہو گئی یا شیعہ مقدسات کو خطرہ لاحق ہوا تو عراق کی ایران نواز تنظیمیں میدان میں آ سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت ایران کے قریبی اتحادیوں میں یمن کے حوثی باغی اور عراق کے چند مسلح تنظیمیں ہی باقی رہ گئی ہیں اور اس وقت وہ زیادہ تر محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles