ایران کے مشرق وسطیٰ میں امریکی تنصیبات پر حملے

امریکا اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ فضائی حملوں کے بعد خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے، ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں مختلف مقامات پر میزائل داغے گئے ہیں۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق قطر میں قائم العديد امریکی اڈہ زوردار دھماکوں سے گونج اٹھا اور امریکی اڈے کے قریب ایمرجنسی سائرن بجنا شروع ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق قطری حکام نے شہریوں کو فوجی مقامات سے دور رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ قطری حکومت نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے کے لیے موبائل فون الرٹ جاری کر دیے ہیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی نے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ قطری میزائل دفاعی نظام نے ایرانی میزائل حملہ ناکام بنا دیا ہے۔

الجریرہ کی رپورٹ کے مطابق بحرین نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈ کوارٹر کو میزائل حملے سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں بھی ایک زوردار دھماکے کی اطلاع ملی ہے۔

اس کے علاوہ کویت میں بھی زوردار دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں اور سائرن بجنا شروع ہوگئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق کویتی افواج نے ایرانی میزائلوں کو فضا میں تباہ کردیا ہے اور مختلف علاقوں میں جنگی سائرن بجائے جارہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔

ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ آنے والے حالات کے لیے تیار رہے، اور ایران کا ردعمل عوامی ہوگا جس میں کوئی سرخ لکیر نہیں ہوگی۔

عہدیدار نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود تمام امریکی اور اسرائیلی اثاثے اور مفادات اب جائز ہدف بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ جارحیت کے بعد کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہی اور ہر امکان موجود ہے، حتیٰ کہ ایسے منظرنامے بھی زیر غور آ سکتے ہیں جن پر پہلے کبھی غور نہیں کیا گیا تھا۔

ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایسی جارحیت اور جنگ کا آغاز کیا ہے جس کے اثرات وسیع اور طویل المدتی ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ امریکی۔اسرائیلی کارروائی پر ایران کو حیرت نہیں ہوئی اور اس کا ردعمل پیچیدہ ہوگا، جس کی کوئی وقت کی حد مقرر نہیں ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles