’چین نئے ایٹمی ہتھیار تیار کر رہا ہے‘: امریکی میڈیا کا دعویٰ

امریکی انٹیلی جنس اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ چین نئے جدید ایٹمی ہتھیار تیار کررہا ہے، اور اسی سلسلے میں اس نے گزشتہ برسوں میں کم از کم ایک خفیہ دھماکہ خیز تجربہ کیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام چین کے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کو مکمل طور پر جدید بنانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔

امریکی خبررساں ادارے سی این این کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کے مطابق جون 2020 میں چین کے شمال مغربی علاقے میں واقع لوپ نور کے مقام پر ایک دھماکہ کیا گیا۔

امریکا کے مطابق یہ تجربہ چین کی جانب سے 1996 سے جاری خود ساختہ جوہری تجربات پر پابندی کے باوجود کیا گیا۔ اگرچہ اس دھماکے کی تاریخ اور مقام حال ہی میں امریکی حکام نے ظاہر کیا، تاہم اس کا مقصد اب تک عوامی سطح پر واضح نہیں کیا گیا تھا۔

امریکی ذرائع کے مطابق بعد ازاں حاصل ہونے والی معلومات سے اندازہ ہوا کہ یہ تجربہ نئی قسم کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق تھا۔ ان میں ایسے میزائل نظام شامل ہو سکتے ہیں جو ایک ہی میزائل کے ذریعے کئی چھوٹے جوہری وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس کے علاوہ امریکا کا دعویٰ ہے کہ چین کم شدت کے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں پر بھی کام کر رہا ہے۔

امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ چین اپنی جوہری تنصیبات میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے، جس سے وہ مستقبل میں امریکا اور روس کے قریب تر آ سکتا ہے، اگرچہ اس وقت اس کے ہتھیاروں کی تعداد ان دونوں ممالک سے کم ہے۔ چین نے 1964 میں پہلا جوہری تجربہ کیا تھا۔

چین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ چین جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی پر قائم ہے اور وہ جوہری تجربات پر عائد پابندی کا احترام کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے مخصوص انٹیلی جنس رپورٹس پر تبصرہ نہیں کیا، تاہم اس سے قبل یہ عندیہ دیا جا چکا ہے کہ چین کی جوہری جدیدکاری خطے میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ 2024 کی ایک امریکی رپورٹ میں بھی کہا گیا تھا کہ چین اپنی جوہری افواج کی تاریخ کی تیز ترین توسیع کر رہا ہے۔

سابق امریکی حکام کے مطابق جون 2020 کے واقعے کی شدت 2.75 میگنی ٹیوڈ ریکارڈ کی گئی، جسے بعض ماہرین زیر زمین دھماکہ قرار دیتے ہیں، تاہم کچھ ماہرین کے نزدیک صرف زلزلہ پیما اعداد و شمار حتمی ثبوت نہیں ہوتے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles