پاک بھارت کرکٹ مقابلوں کی تاریخ ہمیشہ جوش، جذبات اور تناؤ کے لمحوں سے بھری رہی ہے۔ شائقین کے لیے یہ محض کھیل نہیں بلکہ ایک سنسنی خیز مقابلہ ہوتا ہے جہاں کھلاڑی کبھی سنبھلتے ہیں اور کبھی گرما گرمی میں الجھ جاتے ہیں۔
یہاں پک بھارت ٹاکرے کے حوالے سے ان تاریخی لمحات کا جائزہ لیا گیا ہے جب میدان میں ایکشن کے ساتھ کھلاڑیوں کے درمیان جذبات نے سر اُٹھایا۔
انٹرنیشنل کرکٹ میں پاک بھارت مقابلوں کی تاریخ کئی سنسنی خیز لمحات سے بھری ہے۔
1992 کے ورلڈ کپ میں پاک بھارت میچ کے دوران جاوید میانداد اور کرن مورے کے درمیان زبردست گرما گرمی دیکھنے میں آئی تھی۔ اسی ٹورنامنٹ میں عامر سہیل نے پرساد کو سختی دکھائی، تاہم اگلی گیند پر آؤٹ ہونے کے بعد وہ چپ چاپ واپس چلے گئے تھے۔

2004 میں شعیب اختر اور راہول ڈریوڈ کے درمیان تصادم ہوا تھا، جس میں انضمام الحق نے بیچ بچاؤ کرایا تھا۔

2007 میں بھارت کے کانپور اسٹیڈیم میں ون ڈے میچ کے دوران گھوتھم گھمبیر رن لیتے ہوئے شاہد آفریدی سے ٹکرا گئے تھے، جس کے بعد دونوں حریف کھلاڑیوں کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔

2010 میں گھوتھم گھمبیر اور کامران اکمل کے درمیان گرما گرمی دیکھنے کو ملی تھی، اور اسی میچ میں شعیب اختر اور ہربجھن سنگھ میں بھی تکرار ہوئی تھی۔

2025 کے ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے میں ابھیشیک شرما اور حارث رؤف کے درمیان تلخ کلامی سامنے آئی تھی، جس پر امپائر نے فوری طور پربیچ بچاؤ کرا کر معاملہ ختم کرایا تھا۔

کرکٹ کے شائقین کے لیے یہ لمحات نہ صرف کھیل کی مہارت بلکہ کھلاڑیوں کے جذبات اور حوصلے کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔
ہر میچ میں ایکشن، دباؤ اور کبھی کبھار تلخ کلامی کا امتزاج شائقین کی دلچسپی کو بڑھاتا ہے اور یہ یقینی بناتا ہے کہ پاک بھارت مقابلے صرف کھیل نہیں بلکہ ایک جذباتی محاذ بھی ہوتے ہیں۔