
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران ایک اور تنازع سامنے آ گیا ہے، جہاں اماراتی کرکٹ بورڈ نے پاکستانی نژاد یو اے ای کرکٹر محمد زوہیب کو بھارت سے واپس دبئی بھیج دیا ہے۔ اماراتی کرکٹ بورڈ کے مطابق محمد زوہیب کو نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر ٹورنامنٹ سے باہر کیا گیا ہے۔
یو اے ای کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق مزید تفصیلات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی، جبکہ معاملے کی مکمل تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔
بورڈ حکام نے ابتدائی بیان میں کسی مخصوص واقعے کی وضاحت نہیں کی۔
دوسری جانب اماراتی میڈیا کے مطابق محمد زوہیب نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ میں شامل زیادہ تر افراد کا تعلق بھارت سے ہے اور پاکستانی نژاد ہونے کی بنیاد پر انہیں جان بوجھ کر ٹیم سے نکالا گیا۔
محمد زوہیب کے مطابق ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا، جس کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ کا شکار رہے۔
اپنے ویڈیو بیان میں محمد ذوہیب نے کہا کہ انہیں کوچنگ اسٹاف کی جانب سے کہا گیا کہ وہ خود کو فٹ نہ ہونے کا اعلان کریں تاکہ انہیں واپس بھیجا جا سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انکار کرنے پر انہیں دھمکیاں دی گئیں اور کہا گیا کہ اگر وہ واپس نہ گئے تو مستقبل میں ان کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
محمد ذوہیب کے مطابق بعد میں انہیں والدہ کی طبیعت کا بہانہ بنا کر واپس جانے کا مشورہ دیا گیا، تاہم انہوں نے وجہ پوچھی تو انہیں کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ انہیں زبردستی واپس بھیجا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ اگر وہ نہ گئے تو ان کی ہوٹل بکنگ بھی منسوخ کی جا سکتی ہے۔
محمد ذوہیب نے اماراتی کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یو اے ای کی نمائندگی کرتے ہیں اور ٹیم میں قومی شناخت کی بنیاد پر فیصلے نہیں ہونے چاہئیں۔