
ترلائی کلاں میں واقع مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق دھماکے میں چار سے چھ کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا، جبکہ خودکش حملے میں بال بیرنگ کی مقدار غیر معمولی طور پر زیادہ تھی، جس سے جانی نقصان زیادہ ہوا۔
ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ حملہ آور نے مسجد میں داخل ہونے سے قبل فائرنگ کی تھی اور بعد ازاں مسجد کے ہال میں جا کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار نے راستے میں دو گولیاں چلائیں جبکہ اندر داخل ہو کر چھ فائر کیے تھے۔ واقعے کے بعد جائے وقوعہ سے تمام گولیوں کے خول اکٹھے کر لیے گئے ہیں، جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے محفوظ کر لیا گیا ہے۔
تحقیقات کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد بھی حاصل کر لی گئی ہے، تاکہ حملہ آور کی شناخت اور واقعے سے جڑے دیگر پہلوؤں کا تعین کیا جا سکے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل ڈیٹا اور دیگر شواہد کی بنیاد پر مختلف زاویوں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی، سہولت کاری اور بارودی مواد کی فراہمی سے متعلق پہلوؤں پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جبکہ سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مسجد کے اندر خودکش دھماکے کے نتیجے میں 32 افراد شہید اور 170 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔