لاہور قلندرز نے مستفیض الرحمان کو اپنی ٹیم کا حصہ بنالیا

لاہور قلندرز نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہویں سیزن کے لیے ایک بڑا دھماکہ کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے مایہ ناز فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو براہ راست اپنی ٹیم میں شامل کر لیا ہے۔

لاہور قلندرز کی انتظامیہ نے پانچ فروری کو اس اہم معاہدے کی تصدیق کی، جس کے مطابق بائیں ہاتھ سے بولنگ کرنے والے اس تجربہ کار کھلاڑی کو چھ کروڑ چوالیس لاکھ روپے کے عوض ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔

مستفیض الرحمان اس سے قبل بھی 2016 اور 2018 تک لاہور قلندرز کی نمائندگی کر چکے ہیں اور اب طویل عرصے بعد وہ ایک بار پھر اسی ٹیم کی جرسی میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔

لاہور قلندرز کی انتظامیہ نے اس فیصلے کو محض ایک پیشہ ورانہ ضرورت نہیں بلکہ ایک جذباتی تعلق قرار دیا ہے۔

ٹیم کے مالک سمین رانا کا کہنا ہے کہ جو ایک بار قلندر بن جائے وہ ہمیشہ قلندر ہی رہتا ہے اور مستفیض الرحمان ان کے لیے صرف ایک کھلاڑی نہیں بلکہ ایک بھائی اور خاندان کے فرد کی طرح ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستفیض الرحمان کی ٹیم میں واپسی سے بولنگ لائن مضبوط ہوگی اور ان کا تجربہ ٹیم کو ٹرافی جیتنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

انتظامیہ کا ماننا ہے کہ مستفیض کی مہارت اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ان کی کارکردگی پی ایس ایل کے اگلے سیزن میں ٹیم کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

آئندہ سیزن کے لیے لاہور قلندرز نے اپنے پرانے اور اہم کھلاڑیوں کو برقرار رکھا ہے جن میں کپتان شاہین شاہ آفریدی، عبداللہ شفیق، سکندر رضا اور نوجوان محمد نعیم شامل ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ سال قلندرز کی ٹیم میں بنگلہ دیش کے شکیب الحسن، مہدی حسن میراز اور ارشاد حسین بھی شامل تھے لیکن اس بار فرنچائز نے ان تینوں کھلاڑیوں کو برقرار رکھنے کے بجائے صرف مستفیض الرحمان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

اس نئی شمولیت کے بعد لاہور قلندرز کے مداح پرامید ہیں کہ ٹیم کی بولنگ لائن دنیا کی خطرناک ترین جوڑیوں میں سے ایک ثابت ہوگی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles