
یونان کے مشرقی ایجیئن سمندر میں واقع جزیرے خیوس کے قریب مہاجرین کو لے جانے والی ایک تیز رفتار کشتی اور یونانی کوسٹ گارڈ کی پیٹرولنگ بوٹ کے درمیان تصادم کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
یونانی کوسٹ گارڈ کے مطابق حادثے کے بعد فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا، جس میں چار گشتی کشتیاں، فضائیہ کا ایک ہیلی کاپٹر اور غوطہ خوروں کو لے جانے والی ایک نجی کشتی حصہ لے رہی ہے تاکہ کسی ممکنہ لاپتہ مسافر کو تلاش کیا جا سکے۔
کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد 24 افراد کو زندہ بچا کر جزیرے خیوس کے اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جبکہ واقعے میں زخمی ہونے والے کوسٹ گارڈ کے دو اہلکاروں کو بھی اسپتال پہنچایا گیا۔
حکام کے مطابق اسپتال منتقل کیے گئے مہاجرین میں سے کتنے افراد زخمی ہیں، اس بارے میں فوری طور پر واضح معلومات دستیاب نہیں ہو سکیں۔
یونانی حکام نے بتایا کہ یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ حادثے کے وقت تیز رفتار کشتی میں مجموعی طور پر کتنے افراد سوار تھے۔ اسی طرح تصادم کیسے پیش آیا اور مرنے والوں یا دیگر مسافروں کی شناخت سے متعلق تفصیلات بھی فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔
مقامی میڈیا کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کوسٹ گارڈ کی کشتی سے ایک شخص کو کمبل میں لپیٹ کر گھاٹ پر لایا جا رہا ہے، جہاں نیلی بتیوں والی کوسٹ گارڈ کی گاڑی موجود ہے۔
فوٹیج میں یہ منظر بھی دکھائی دیتا ہے کہ چند افراد دو بچوں کو گاڑی کی جانب لے جا رہے ہیں۔
یونان یورپی یونین میں داخلے کا ایک اہم راستہ سمجھا جاتا ہے، جہاں مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا سے تعلق رکھنے والے افراد جنگ، غربت اور عدم استحکام سے بچنے کے لیے پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ترکیہ کے ساحل سے قریبی یونانی جزیروں تک کا سمندری سفر اگرچہ مختصر ہوتا ہے، لیکن اکثر خطرناک ثابت ہوتا ہے اور ایسے حادثات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں۔
حالیہ برسوں میں یونان نے سرحدی نگرانی سخت کی ہے، جس کے باعث سمندر کے ذریعے داخلے کی کوششوں میں کمی آئی ہے۔
یونانی حکام پر بعض حلقوں کی جانب سے مہاجرین کو بغیر پناہ کی درخواست سنے واپس بھیجنے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں، تاہم حکومتی مؤقف ہے کہ سرحدوں کا تحفظ ضروری ہے۔
یورپی یونین کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر یونان نے مہاجرت سے متعلق قوانین کو مزید سخت کیا ہے، اور دسمبر میں یورپی یونین نے اپنے مہاجرتی نظام میں تبدیلیوں کا اعلان کیا تھا، جن میں بے دخل کرنے کے عمل کو تیز کرنا اور حراست کے اقدامات شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور جیسے ہی مزید معلومات دستیاب ہوں گی، انہیں عوام کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔