
ترجمان دفتر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان ترکیے میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کو شرکت کی دعوت ملنے کی تصدیق کردی ہے۔
پاکستان اور ترکیہ کی امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کم کرنے کی کاوشیں رنگ لائیں اور اب امریکا اور ایران مذاکرات کے لیے راضی ہوچکے ہیں، یہ مذاکرات ترکیہ میں ہورہے ہیں۔
جمعے کے روز استنبول میں ہونے والے ان مذاکرات میں امریکا نے پاکستان کو بھی شرکت کی دعوت دی ہے، جسے پاکستان نے قبول کیا ہے۔
ترجمان دفترخارجہ طاہر اندرابی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کو امریکا ایران مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نمائندگی کریں گے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ امریکا، ایران مذاکرات بیک ڈور ڈپلومیسی سے ممکن ہوئے، پاکستان اور ترکیے نے شدید تناؤ کے درمیان سفارتی کاوشوں کے ذریعے ایران کو امریکا سے بات چیت کے لیے راضی کیا۔
ذرائع نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمہ کے لیے پاکستان اپنا کردار ادا کرے گا، ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات جمعے کو ترکیے میں شروع ہو رہے ہیں، جس میں ایران کے ایٹمی پروگرام اور دیگر معاملات پر بات ہوگی۔
اس سے قبل مذاکرات پانچویں دور کے بعد سے تعطل کا شکار تھے اور مئی 2023 میں معطل ہوگئے تھے۔
امریکا کے نمائندہ خصوصی اسٹیو ویٹکوف اور ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی مذاکرات میں اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے اور دونوں ممالک کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق جاری تنازع سفارت کاری کے ذریعے ختم کرنے کی کوششیں کریں گے تاکہ خطہ نئی جنگ سے بچ جائے۔
ایک عہدیدار نے بتایا کہ استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں ترجیح کسی تنازع سے بچنا اور دونوں ممالک کے درمیان تنازعات میں کمی لانا ہے اور مذاکرات میں خطے کی طاقتوں کے ایک گروپ کو بھی دعوت دی گئی ہے۔
شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عہدیدار نے بتایا کہ استنبول میں مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان، سعودی عرب، قطر، مصر، عمان اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کو دعوت دی گئی ہے۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ امریکی جنگی جہاز ایران کی جانب بڑھ رہے ہیں اور اگر معاہدہ نہیں ہوسکا تو برا ہوسکتا ہے۔ امریکا کا بحری جہاز گزشتہ ماہ ایران میں حکومت مخالف پرتشدد احتجاج کے دوران ایران کے قریب تعینات کردیے گئے تھے۔