
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں اور تشدد میں امریکا اور اسرائیل براہِ راست ملوث تھے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی پشت پناہی سے ہونے والے احتجاج نے ملک کو شدید نقصان پہنچایا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای نے ہفتے کے روز ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل پر تشدد میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام لگایا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مجرم قرار دیا۔
آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق حالیہ مظاہروں کے دوران امریکا اور اسرائیل سے وابستہ عناصر نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلائی اور کئی ہزار افراد کو قتل کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بدامنی ماضی کے واقعات سے مختلف تھی کیونکہ اس بار امریکی صدر نے خود براہِ راست مداخلت کی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ امریکا کی منصوبہ بندی تھی اور اس کا مقصد ایران کو نقصان پہنچانا تھا۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے زمینی سطح پر مداخلت کا اعتراف بھی کیا ہے۔ سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے سوشل میڈیا بیان اور موساد کی فارسی زبان میں پوسٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان پیغامات میں فسادیوں کی کھلی حوصلہ افزائی کی گئی تھی۔
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ایران میں ہونے والے مظاہرے ابتدا میں پُرامن تھے تاہم بعد ازاں یہ پُرتشدد ہو گئے۔ مختلف شہروں میں ہنگامہ آرائی کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ سرکاری اور عوامی املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بدامنی کے دوران آگ لگانے، توڑ پھوڑ اور تخریب کاری میں ملوث عناصر کو ایرانی شہریوں کے طور پر پیش کیا گیا، جو ایرانی قوم پر سنگین بہتان اور جرم ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ بدامنی میں ملوث کئی عناصر کی شناخت ہو چکی ہے، جنہیں امریکی اور اسرائیلی اداروں نے تربیت اور وسائل فراہم کیے اور انہیں خوف اور تباہی پھیلانے کی ہدایات دی گئیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران سرحدوں سے باہر کشیدگی بڑھانے سے گریز کرے گا تاہم ذمہ داروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔