
ایرانی وزارت خارجہ نے ملک میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد کو صیہونی عناصر کی منظم مسلح کارروائی قرار دیتے ہوئے اسرائیل پر براہ راست الزام عائد کیا ہے۔
تہران میں جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 8 سے 10 جنوری کے دوران بعض مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کیے گئے جن کے پیچھے بیرونی سازش کارفرما تھی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق پرامن احتجاج کو دانستہ طور پر پرتشدد رخ دیا گیا اور اس حوالے سے اسرائیلی کردار کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ بعض امریکی اور اسرائیلی حکام کے بیانات بھی ایران میں بدامنی کو ہوا دینے اور تشدد پر اکسانے کا واضح ثبوت ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ایران پرامن احتجاج کے حق کا احترام کرتا ہے اور آئین کے تحت شہری آزادیوں اور حقوق کے تحفظ کا پابند ہے، تاہم ریاستی اداروں پر حملے اور بدامنی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
دوسری جانب پاکستان اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح پر سفارتی رابطہ بھی سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں ایران اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے گفتگو کے دوران خطے میں امن و استحکام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے موجودہ حالات میں سفارتی رابطے مضبوط رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔