
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا کیے جانے کے بعد وینزویلا کی عدالت عظمیٰ نے نائب صدر ڈیلسی کو عارضی طور پر عہدہ سنبھالنے کا حکم دے دیا۔
آئینی عدالت کے فیصلے میں کہا گیا کہ روڈریگیز کو اس لیے عہدہ سنبھالنے کی اجازت دی جا رہی ہے تاکہ ریاستی معاملات جاری رہیں اور ملک کے دفاع کو یقینی بنایا جا سکے۔
عدالت نے مزید کہا کہ وہ اس صورتحال میں ریاستی نظم، حکومتی انتظام اور خود مختاری کے تحفظ کیلئے قانونی پہلوؤں کا مزید جائزہ لے گی۔
ڈیلسی روڈریگیز 56 سال کی ہیں اور انہیں وینیزویلا کی سوشلسٹ قیادت میں اہم ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ نائب صدر کے ساتھ ساتھ خزانہ اور تیل کی وزارتوں کے عہدوں پر بھی فائز رہ چکی ہیں۔ مادورو حکومت کے مشکل معاشی دور میں وہ کلیدی کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
جواب میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو ایک فوجی اڈے سے حراست میں لیا گیا اور بعدازاں انہیں نیویارک منتقل کر دیا گیا، جہاں ان پر منشیات اور دہشت گردی سے متعلق الزامات میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ مادورو کو مبینہ طور پر بروکلین کی ایک وفاقی جیل میں رکھا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ عبوری دور کے دوران امریکا وینیزویلا کی مدد کرے گا، تاہم زمینی صورتِ حال میں فوری طور پر ایسی کسی عملی شمولیت کے آثار سامنے نہیں آئے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مقصد محفوظ اور منظم انتقالِ اقتدار کو ممکن بنانا ہے۔
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ آئینی اور انتظامی معاملات پر مزید فیصلے آئندہ دنوں میں متوقع ہیں۔