
وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں رات دو بجے دھماکوں اور ہوائی جہازوں کی پرواز کی آوازیں سنائی دی گئی ہیں جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ دھماکے ایسے وقت میں ہوئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں نیوی کی ٹاسک فورس تعینات کی اور ویزویلا کے خلاف زمینی حملوں کے امکان کو ظاہر کیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق کاراکاس میں تقریباً رات 2 بجے کم از کم 7 دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جو پندرہ منٹ تک جاری رہیں۔
رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دھماکوں کے پیچھے کیا وجہ تھی۔ ویزویلا کی حکومت، پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس نے تبصرے کے لیے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
دھماکوں کی آواز سن کر مختلف علاقوں میں شہری سڑکوں کی طرف دوڑتے دیکھے گئے، جبکہ کاراکاس کے مختلف حصوں سے کچھ افراد دور سے بھی نظر آئے۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب وینزویلا کی جانب سے متعدد امریکی شہریوں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا نے بھی تصدیق کی ہے کہ کم از کم پانچ امریکی شہری اس وقت وینزویلا کی تحویل میں ہیں، جس کے بعد واشنگٹن اور کاراکاس کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ امریکہ نے مبینہ ویزویلا کے منشیات بردار جہازوں کے ایک ڈاکنگ کو نشانہ بنا کر تباہ کردیا تھا۔ تاہم صدر نے یہ نہیں بتایا کہ یہ فوجی کارروائی تھی یا سی آئی اے کی، اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ حملہ کہاں ہوا، بس اتنا کہا کہ یہ ساحل کے ساتھ واقع تھا۔ یہ ویزویلا کی زمین پر ہونے والا پہلا معلوم زمینی حملہ ہوگا۔
ویزویلا کے صدر نیکولس مادورو نے پیر کے حملے کی تصدیق یا تردید نہیں کی، تاہم انہوں نے جمعرات کو کہا کہ وہ امریکی دباؤ کے بعد واشنگٹن کے ساتھ تعاون کے لیے کھلے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے مادورو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایک منشیات سمگلنگ کارٹیل کے سربراہ ہیں اور واشنگٹن اس سمگلنگ کے خلاف کارروائی کر رہا ہے۔ تاہم مادورو نے منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کی تردید کی اور کہا کہ امریکہ انہیں اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ ویزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے معلوم تیل کے ذخائر موجود ہیں۔
واشنگٹن نے کاراکاس پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ویزویلا کے فضائی حدود کو غیر رسمی طور پر بند کیا، مزید پابندیاں عائد کیں اور ویزویلا کے تیل سے بھرے ٹینکرز کی ضبطی کے احکامات دیے۔ ٹرمپ کئی ہفتوں سے خطے میں منشیات کارٹلز کے خلاف زمینی حملوں کی دھمکی دے رہے ہیں اور پیر کو یہ پہلا معلوم اقدام ہوا۔
امریکی افواج نے ستمبر کے بعد سے کیریبین سمندر اور مشرقی بحرالکاہل میں متعدد کشتیوں پر حملے کیے ہیں، جنہیں واشنگٹن منشیات اسمگلروں کے حامل قرار دیتا ہے۔ انتظامیہ نے ابھی تک کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا کہ نشانہ بننے والی کشتیوں کا منشیات سے تعلق تھا، تاہم اس نے ان کارروائیوں کی قانونی حیثیت پر مباحثے کو جنم دیا ہے۔
امریکی فوج کی جاری کردہ معلومات کے مطابق اس مہلک سمندری مہم میں کم از کم 30 حملوں کے نتیجے میں کم از کم 107 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔