
امریکہ نے سال 2025 میں وینزویلا، نائیجیریا، صومالیہ، شام، ایران، یمن اور عراق میں مختلف فوجی کارروائیاں کیں۔ ان حملوں میں ڈرونز، فضائی اور بحری حملے شامل تھے، جن کے ذریعے منشیات کے اسمگلنگ نیٹ ورک، دہشت گرد گروپوں کے ٹھکانے اور حساس عسکری یا جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں وینزویلا میں ڈرگز بوٹ پر ہونے والے حملے کی تصدیق کی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے رواں ہفتے سال کا آخری حملہ وینزویلا میں ایک ڈرگز بوٹ پر کیا جو منشیات کا سامان لوڈ کرنے کے لیے استعمال کی جارہی تھی۔ یہ جنوب امریکی ملک میں امریکی فوجی کارروائی کی پہلی مثال ہے، جس کے بعد امریکہ نے وینزویلا کے ساتھ بحری اور مشرقی بحر الکاہل میں چھوٹے جہازوں کو بھی نشانہ بنایا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ڈوکننگ ایریا میں ایک بڑا دھماکہ کیا گیا، جہاں یہ جہاز منشیات سے لوڈ ہوتے ہیں۔ اب یہ علاقہ ختم کر دیا گیا ہے۔
وہیں امریکہ نے گزشتہ برس جن ممالک پر حملے کیے ان کے نام اور حملے کی تفصیلات ذیل میں بتائی گئی ہیں۔
ستمبر 2025 سے امریکہ نے کیریبین میں چھوٹے جہازوں کو نشانہ بنایا تھا، جس میں کم از کم 95 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد انسانی حقوق کے گروپوں نے واشنگٹن پر غیر قانونی قتل کے الزامات عائد کیے تھے۔
کرسمس کے روز شمال مغربی نائیجیریا میں آئی ایس آئی ایل سے وابستہ گروپوں کے ٹھکانوں کو امریکہ نے نشانہ بنایا تھا۔
سال بھر میں امریکہ نے صومالیہ میں القاعدہ سے وابستہ الشاباب اور آئی ایس آئی ایل شاخوں کے ٹھکانوں پر کم از کم 111 فضائی حملے کیے، جس میں عام شہری بھی ہلاک ہوئے تھے۔
19 دسمبر کو امریکہ نے شام میں آئی ایس آئی ایل کے 70 مقامات کو نشانہ بنایا تھا، یہ حملہ پالمیرا میں امریکی فوجیوں پر ہونے والے حملے کے جواب میں کیا گیا تھا۔
22 جون 2025 کو امریکہ نے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات (ناتانز، اصفہان، اور فوردو) پر حملہ کیا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بعد میں تصدیق کی تھی کہ کچھ مقامات کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ پینٹاگون کا تخمینہ ہے کہ اس حملے سے ایران کے جوہری پروگرام میں تقریباً دو سال کی تاخیر ہوئی۔
جنوری 2024 سے امریکہ نے حوثی گروپ پر فضائی اور بحری حملے کیے تھے، جو اسرائیل سے متعلق جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کے جواب میں انجام دیے گئے تھے۔ حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک اور انفراسٹرکچر تباہ ہوا تھا۔
13 مارچ کو عراق میں امریکی فضائی حملے میں داعش کے عالمی آپریشنز کے سربراہ عبد اللہ مکی مصلح الرفاعی المعروف ”ابو خدیجہ“ کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ یہ حملہ صوبہ الانبار میں عراقی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی فورسز کے تعاون سے کیا گیا تھا۔ ابو خدیجہ، داعش کا دنیا بھر میں دوسرا سب سے اہم کمانڈر تھا اور تنظیم کے مالی امور، لاجسٹکس اور منصوبہ بندی کا ذمہ دار بھی تھا۔