
صوبہ سندھ میں یوں تو سریوں کے پرندوں کا غیر قانونی شکار کوئی نئی بات نہیں ہے مگر اب سندھ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کے حکام نے ان پردیسی پرندوں کو ایک منافع بخش کاروبار بنا لیا ہے اور اس کاروبار کو چلانے کے لئے لاکھوں روپے کی رشوت ملنا شروع ہو گئی ہے ۔

جاچو نیوز کو تحقیقات کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ سندھ میں خاص طور پر لاڑکانہ، دادو, خیرپور ناتھن شاہ ، میہڑ، بھان سعیدآباد ،ٹھٹہ، نوشہرو فیروز، بدین اور جامشورو میں بازاروں اور سڑکوں پر اور کہیں چھپا کے اور کہیں سرعام مرغابیوں کی خرید فروخت شروع ہو گئی ہے ۔اس کاروبار میں مقامی مچھیرے بڑے بڑے جالوں کے ذریعے سینکڑوں مرغابیوں کو ہر روز پکڑ کر دکانداروں کو دیتے ہیں پھر یہ لوگ زندہ پرندوں کی ٹانگیں اور پر توڑ کر انہیں فارمی مرغیوں کی طرح دکانوں پر رکھ کر بھیجتے ہیں جو کہ نہ صرف غیرقانونی ہے بلکہ ایک ظالمانہ عمل ہے اور وائلڈ لائف قوانین کے مطابق ایک جرم ہے۔
معلوم کرنے پر بتایا گیا ہے کہ اس وقت رشین ڈک جسے نیرگ بھی کہا جاتا ہے پندرہ سو روپے اور آڑی پرندہ ایک ہزار روپے فی دانہ فروخت کیا جاتا ہے اور ہر روز بے حساب پرندے فروخت کیئے جاتے ہیں ۔
اس کاروبار میں خاص طور پر سندھ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کے گیم واچرز سے لے کر افسران تک کا باقاعدہ حصہ طئہ ہوتا ہے اور متعلقہ پولیس اسٹیشنز کو بھی خاموش رہنے کا فائدہ ہی ہوتا ہے ۔
رپورٹ۔ ایڈووکیٹ عادل