فیض حمید پر اور بھی الزامات ہیں جن پر کارروائی ہوگی: وزیر دفاع


وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو 15 ماہ کی کارروائی کے بعد سزا سنائی گئی ہے، اور ان پر مزید الزامات بھی ہیں جن پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا پراجیکٹ تقریباً 12 سال قبل زور و شور سے شروع ہوا، جس میں لاہور میں پہلے جلسے کی ارینجمنٹ بھی نادیدہ ہاتھوں نے کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو سازش کے تحت اقتدار سے نکالا گیا اور قید کیا گیا، جبکہ بانی کو دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں لایا گیا۔ فیض حمید اس پراجیکٹ کے انچارج تھے اور بانی کے مفادات کا تحفظ کر رہے تھے۔ ان دونوں نے مل کر ملک کو برباد کیا اور عوام جانتے ہیں کہ بانی نے وعدے پورے نہیں کیے۔
فیض حمید کو سزا: ’عمران خان کے لیے کیا نتائج ہوں گے‘
خیال رہے کہ اسی حوالے سے سینیٹر فیصل واوڈا نے گزشتہ روز ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوجی عدالت سے 14 سال قید بامشقت کی سزا پانے والے سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید اب شواہد کے ساتھ عمران خان کے خلاف گواہی دینے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ گواہی نو مئی کے واقعات اور دیگر اہم اقدامات سے متعلق ہو گی۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ فیض حمید کی شواہد پر مبنی گواہی کے بعد وہ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں اور ان افراد کے لیے بھی اہم ہوگی جو اس وقت ملوث تھے، جنہیں عدالت میں لایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ شکنجہ یہاں رکے گا نہیں اور یہ صرف ابتدا ہے۔

فیصل واوڈا نے فیض حمید کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نو مئی کے مقدمات میں سب سے پہلا ٹیسٹ ٹرائل وہی تھے، اور دھرنے کے دوران اندر کی تنصیبات کی معلومات فیض حمید کی سہولت کاری کے تحت فراہم کی گئی۔
9 مئی: فیض حمید کی سیاسی مداخلت ثابت ہوئی تو عمران خان کو بھی سزا ہوسکتی ہے، رانا ثنااللہ
انہوں نے کہا کہ جو 14 سال کی سزا ہوئی ہے اس میں کمی نہیں ہوگی، اور مستقبل میں دی جانے والی شواہد پر مبنی گواہی ملک کے لیے اہم ثابت ہوگی، جس سے عوام کے جذبات بھی متاثر ہوں گے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles