جنید جمشید نے یونیورسٹی دور میں میوزک سے لگاؤ ہونے کے بعد دوستوں کے ساتھ مل کر ایک بینڈ تشکیل دیا، جس نے 1983 میں پشاور اور پھر اسلام آباد یونیورسٹی میں اپنی فن کا مظاہرہ کیا۔
بعد ازاں اس چھوٹے سے بینڈ ’وائٹل سائنس‘ نے دنیا بھر میں نام روشن کیا اور دل دل پاکستان جیسے مشہور قومی نغموں کو تخلیق کیا۔
جنید جمشید پاکستان کے مایہ ناز گلوکار تھے لیکن کیرئیر کے عروج کےدنوں میں انہوں نے اللہ اور دین کی خاطر گلوکاری کو چھوڑدیا، اور نعت خوانی اورتبلیغ میں اپنا وقت صرف کرنا شروع کردیا۔
تبلیغی جماعت سے وابستگی کے بعد جنید جمشید دین کی خاطر دیس دیس گئے اور اسی دوران انہوں نے حمد و ثناء و نعت خوانی کا آغاز بھی کیا۔
7 دسمبر 2016 کو جنید جمشید قومی ایئرلائن پی کے 661 کی پرواز کے ذریعے چترال سے واپس آرہے تھے کہ حویلیاں کے مقام پر طیارے کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں معروف مبلغ سمیت طیارے میں سوار تمام 47 مسافر شہید ہوگئے تھے۔