ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل 2024 قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا


ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل 2024 قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا، بل کا مقصد پائیدار ترقی کو تیز کرنے، عوامی خدمات کی فراہمی کو فروغ دینے اورمؤثر طریقے سے گورننس کو جدید بنانے کی کوشش کرنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس میں وزیرمملکت شزا فاطمہ خواجہ نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل2024 متعارف کروادیا، بل مزید غور کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا ہے۔
مسودہ بل کے مطابق اس کا مقصد ایک متحرک ڈیجیٹل معاشرے، ایک مضبوط ڈیجیٹل معیشت اورموثر ڈیجیٹل گورننس کو فروغ دے کر پاکستان کو ایک بااختیار ملک میں تبدیل کرنا ہے۔ جدت، اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی صلاحیت کو تسلیم کرکےگورننس کو بہتر بنانا ہے۔
اس بل کے ذریعہ نیشنل ڈیجیٹل کمیشن اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی قائم کرنا ہے تاکہ ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے تمام سطحوں کی حکومتوں کی نگرانی کرتے ہوئے ڈیجیٹل اقدامات کو مربوط اور ہم آہنگ کرتے ہوئے ان پالیسیوں کو نافذ کرناہے۔
پی ٹی آئی کا دور پی آئی اے کے زوال کا دور تھا، خواجہ آصف
بل کا ایک سنگ بنیاد نیشنل ڈیجیٹل ماسٹر پلان ہے، جو ڈیجیٹل اقدامات کو درست سمت میں لانے اور بہتر بنانے، وفاقی، صوبائی اور مقامی سطحوں پر بہترسروس ڈیلیوری کے ذریعے معاشی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے جامع حکمت عملی فراہم کرنا ہے۔
ماسٹر پلان کے تحت عمل درآمد کا منصوبہ مخصوص مطلوبہ وسائل، ٹائم لائنز اور رسک مینجمنٹ کی حکمت عملیوں کی تفصیل دے گا تا کہ اس کی موثر عمل آوری کو یقینی بنایا جا سکے بل محفوظ اور ذمہ دارانہ انتظام کو یقینی بنانے کے لیے ڈیٹا کی موثر حکمرانی پر زور دیتا ہے اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی ترقی کو ترجیح دیتا ہے اور ڈیٹا ایکس لیئر کو فروغ دیتا ہے۔
تحریک انصاف کو ممی ڈیڈی سے دہشت گرد جماعت بنا دیا گیا، عرفان صدیقی
اس قانون سازی کا نفاذ پاکستان کی معاشی ترقی، جدید طرز حکمرانی اور ڈیجیٹل شمولیت، ڈیجیٹل دور میں عالمی بہترین طریقوں سے ہم آہنگ قوم کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو ذمہ دارانہ طریقے سے استعمال کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
پی ٹی آئی کا ڈی چوک کا بیانیہ جھوٹا ہے، عطا تارڑ
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ڈی چوک واقعے کے حوالے سے یہ جھوٹ بول رہی ہے، راہ فرار سے بچنے کے لیے بار بار مختلف تعداد بتائی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے بارے میں اپوزیشن کو بات کرنے سے پہلے اپنے دور کی کارکردگی دیکھنی چاہیے، قومی کو پی آئی اے کی یورپ کی فلائٹس بحال پر ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ کرم میں جب لاشیں پڑی تھیں تب یہ اسلام آباد پر لشکر کشی کر رہے تھے، اس وقت اگر انہوں نے اس مسئلے پر توجہ دی ہوتی تو آج یہاں پر لاشوں پر بات کرنے کی نوبت نہ آتی۔

{try{this.style.height=this.contentWindow.document.body.scrollHeight+’px’;}catch{}}, 100)”
width=”100%” frameborder=”0″ scrolling=”no” style=”height:250px;position:relative”
src=”
sandbox=”allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms”>

عطاتارڑ نے کہا کہ ڈی چوک واقعے کے حوالے سے یہ جھوٹ بول رہے ہیں، پاکستان تحریک انصاف لاشوں کی صحیح تعداد بتائے، یہ جھوٹ تب بولا جاتا ہے جب صحیح تعداد کا معلوم نہ ہوں، پارٹی کے مختلف رہنما مختلف نمبرز دے رہے ہیں، اگر یہ واقعہ اصل ہوتا تو یہ ایک نمبر پر بات کرتے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ جھوٹ پر مبنی بیانیہ تھا، راہ فرار سے بچنے کے لیے بار بار مختلف تعداد بتائی جارہی ہے۔
بجلی بند کرکے نہتے لوگوں پر گولیاں چلائی گئی، زرتاج گل
دوران اجلاس پاکستان تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی زرتاج گل نے ڈی چوک کے مبینہ شہدا کے ناموں کی تفصیل پڑھ کر بتائی۔
انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ یہ بے حس حکومت ہے، ڈیرہ اسمعٰیل خان ( ڈی آئی خان) سے شہید کی لاش چار دن تک پڑی رہی، انہوں نے شہدا کو دفنانے بھی نہیں دیا، لوگ نظریے کی خاطر ڈی چوک آئے تھے، بجلی بند کرکے نہتے لوگوں پر گولیاں چلائی گئی۔
انہوں نے مزید کہا بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کال کوٹھری میں رکھا گیا ہے، انہیں کسی سے ملاقات نہیں کرنے دی جاتی، ہم جمہوریت ہر یقین رکھتے ہیں اس لیے مذاکراتی کمیٹی بنائی ہے، ہم مذاکرات ضرور کریں گے لیکن شہدا کی قربانیوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، جو صحافی ڈی چوک دھرنے کی رپورٹنگ کر رہے تھے انہیں اٹھا لیا گیا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفی شاہ کی زیر صدارت سروع ہوا۔
اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے ریلوے ٹریکس کی خستہ حالی کے حوالے سے سوال کیا۔
وقفہ سوالات کے دوران پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلوے محمد عثمان نے شرمیلا فاروقی کے ایم ایل ون سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایم ایل ون پر جیسے ہی کام مکمل ہو گا، ریونیو بھی زیادہ ہوگا اور اموات بھی کم ہوں گی۔
وقفے کے دوران زہرہ ودود فاطمی نے سوال اٹھایا کہ ٹی بی (تپدق) کے بڑھتے ہوئے کیسز کے خلاف حکومت کیا اقدامات لے رہی ہے؟
کرم پر توجہ دیتے تو نوبت یہاں تک نہ آتی، عطا تارڑ
پارلیمانی سیکرٹری نیلسن عظیم نے اجلاس کو بتایا کہ ٹی بی اس وقت تیزی سے پھیل رہی ہے، اسلام آباد میں 9 ہزار 312 کیسز رجسٹرڈ ہوچکے ہیں، پورے ملک میں 18 لاکھ کیسز رجسٹرڈ ہوچکے ہیں، سرکاری اور غیر سرکاری ہسپتالوں میں فری علاج کیا جاتا ہے۔
ملزمان کو چھوڑنے والوں کا تعین ہونا چاہیے، عبدالقادر پٹیل
دوران اجلاس پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبد القادر پٹیل نے کہا کہ ساری سیاسی جماعتوں نے تکلیفیں اٹھائیں، آج اے پی ایس کے بچوں کا غم منانے کا دن ہے، ہمارا قومی رویہ بہت جلد بھول جانے والا ہے، احسان اللہ احسان چابی دے کے واپس چلا گیا، کہا گیا کہ احسان اللہ احسان مرکزی ملزم ہے۔اس نے سانحہ کارساز کرنے والوں سے بھی ہاتھ ملایا گیا ، آج ملزمان، ساتھ دینے والوں، بسانے والوں اور چھوڑنے والوں کا تعین بھی ہونا چاہیئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سقوط ڈھاکہ اور اے پی ایس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، اے پی ایس کا تو ہم نے سودا کیا، سانحہ میں ملوث ملزمان کو واپس لا کر بسایا گیا۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نہیں معلوم کی ریاستی ادارے کس مرض کی دوا ہیں، اے پی ایس جیسے واقعات دوبارہ نہیں ہونے چاہئیں۔
سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا کہ، پاکستان کی تاریخ سانحات سے بھری پڑی ہے، پاکستان میں کس قاتل کو آج تک سزا ہوئی ہے؟ یہ ایوان اور سیکیورٹی ادارے برابر کے ذمہ دار ٹھہرائے جانے چاہئیں، ہمارے شہیدوں کا تو مذاق اڑایا گیا ہے ، پہلے کہا گیا کہ یہ مذاکرات نہیں کرنا چاہتے، عمران خان نے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنائی، پھر کہا گیا کہ مائنس عمران خان مذاکرات کیے جائیں۔
صاحبزادہ حامد رضا کا مزید کہنا تھا کہ آپ مائنس نواز شریف اور شہباز شریف مذاکرات کرلیں، ہم بانی پی ٹی آئی کے بغیر مذاکرات نہیں کریں گے، میرے ساتھ کام کرنے والے دو پشتون بچوں کو روکا گیا، صوبائیت پر مبنی کام کریں گے تو ملک کو نقصان ہوگا، نیشنل ایکشن پلان کے ہوتے ہوئے کالعدم تنظیموں کے سربراہان کو سکواڈ فراہم کیے گئے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles